اردوئے معلیٰ

پاک ہوتی ہے زباں تو شاد ہو جاتا ہے دل

نامِ احمد سے مرا آباد ہو جاتا ہے دل

 

نقش ہو جاتا ہے میرے ذہن میں عشقِ رسول

نعت جب کہتا ہوں تو بہزاد ہو جاتا ہے دل

 

گنبدِ خضرا پہ جونہی پڑتی ہے پہلی نظر

اس گھڑی ہر خوف سے آزاد ہو جاتا ہے دل

 

مانگ کر آمد محمد مصطفٰی کی خواب میں

انتظارِ دید میں نوشاد ہو جاتا ہے دل

 

اشک پڑھتے ہیں درودِ پاک ان کے شہر میں

جائے پاکِ محفلِ میلاد ہو جاتا ہے دل

 

لحن میں پڑھتا ہوں جب میں نعت کوئی بھی عطا

چشمِ نم کے ساتھ خود ہی داد ہو جاتا ہے دل

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات