پاک ہوتی ہے زباں تو شاد ہو جاتا ہے دل

پاک ہوتی ہے زباں تو شاد ہو جاتا ہے دل

نامِ احمدؐ سے مرا آباد ہو جاتا ہے دل

 

نقش ہو جاتا ہے میرے ذہن میں عشقِ رسول

نعت جب کہتا ہوں تو بہزاد ہو جاتا ہے دل

 

گنبدِ خضرا پہ جونہی پڑتی ہے پہلی نظر

اس گھڑی ہر خوف سے آزاد ہو جاتا ہے دل

 

مانگ کر آمد محمدؐ مصطفٰی کی خواب میں

انتظارِ دید میں نوشاد ہو جاتا ہے دل

 

اشک پڑھتے ہیں درودِ پاک ان کے شہر میں

جائے پاکِ محفلِ میلاد ہو جاتا ہے دل

 

لحن میں پڑھتا ہوں جب میں نعت کوئی بھی عطا

چشمِ نم کے ساتھ خود ہی داد ہو جاتا ہے دل

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سب سے اُونچا ہے مرتبہ اُن کا
خزاں سے کوئی طلب نہیں ہے بہار لےکر میں کیا کروں گا
زمیں کیا آسماں پر گفتگو ہے
جہاں میں مرتبہ جس نے بهی چاہا
حسرتِ دل ہے اُن کا حرم سامنے
بابِ مدحت پہ مری ایسے پذیرائی ہو
جو ان کے در پر جھکا ہوا ہے
شیرازہ بندِ دفترِ امکاں ہے شانِ حق
بارگۂ جمال میں خواب و خیال منفعل
ردائے شوق میں مدحت کے تار بن، مرے دل