پنجابی زبان کے نامور شاعر اور فلمی نغمہ نگار وارث لدھیانوی کا یوم وفات

آج پنجابی زبان کے نامور شاعر اور فلمی نغمہ نگار وارث لدھیانوی کا یوم وفات ہے

پنجابی شاعری میں استاد دامن کے بعد دوسرا سیدھا سادھا شاعر جسکا مزاج چال ڈھال، رہن سہن ماحول محفل کچھ بھی شاعروں والا نہیں تھا مگر کیا خوبصورت گیت اور غزلیں لکھیں۔
دیساں دا راجا میرے بابل دا پیارا ویر میرا گھوڑی چڑھیا،
اک کڑی دی چیز گواچی بھلکے چیتا آوے گا،
دلا ٹھہر جا یار دا نظارہ لین دے،
ڈورے کھچ کے نہ کجلا پائیے،
میرا دل چناں کچ دا کھڈونا،
چھم چھم پیلاں پاواں،
چن چن دے سامنے آگیا،
ڈاڈھا بھیڑا عشقے دا روگ،
گوری گوری چاننی دی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاں نی،
رباایہدے نالوں موت سکھالی، وچھوڑا مکے، سجناں دا،
چھپ جاؤتاریو پادیو ہنیر ویو ہنیر وے،
وے سب توں سوہنیا ہائے وے موہنیا،
آج بھی مقبول عام یہ سبھی خوبصورت گیت ایک ہی شاعر کے ہیں، ایسا سیدھا سادھا شاعرجس کے دن کا بیشتر حصہ بھینسوں کی دیکھہ بھال میں گزرتا تھا خود ان کا دودھ دوہتا تھا۔
وارث لدھیانوی ،جن کا اصل نام چودھری محمد اسماعیل تھا،11 اپریل 1928 کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔1947 میں ہجرت کرکے لاہور آنا پڑا۔
پہلے عاجز تخلص تھا۔ استاد دامن کے شاگرد ہونے کے بعد وارث لدھیانوی ہوگئے۔
کہتے تھے استاد نے سر پر ہاتھہ رکھا تو میں وارث لدھیانوی بنا ورنہ وارث تو بڑے رلتے پھرتے ہیں۔
وارث لدھیانوی نے بے شمار فلموں کے گیت اور مکالمے لکھے۔
مکھڑا، کرتار سنگھہ ، یار بیلی، بابل دا ویہڑا ان کی مشہور فلمیں ہیں۔
وارث لدھیانوی نے 5 ستمبر 1992 کو لاہور میں وفات پائی۔
احمد عقیل روبی راوی ہیں، جنرل ضیاء الحق کا زمانہ تھا۔ پولیس والے لوگوں کے منہ سونگھتے پھرتے تھے۔ وارث لدھیانوی کا بھی سُونگھا اور اسے پکڑ کر تھانے لے گئے۔
حوالات میں بند کر نے لگے تو وارث لدھیانوی نے تھانیدار سے پوچھا،
پتر، تیرا ویاہ ہویا اے
تھانیدار نے کہا
ہاں ہویا اے، تے ایس تھانے وچ سارے ویاہے ہوئے نیں۔
وارث نے کہا تے فیر ساریاں دے ویاہ تے اک گیت ضرور بھیناں نے گایا ہونا اے
تھانیدار نے پوچھا
کیہڑا گیت
دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا
امڑی دے دل دا سہارا
نی ویر میرا گھوڑی چڑھیا
ہاں ایہہ گیت گایا سی، پر تیرا ایس گیت نال کیہ تعلق تھانیدار نے کہیا۔
وارث لدھیانوی نے ہنس کے کہا۔
یار ایہہ گیت میں لکھیا اے تے میرا ناں وارث لدھیانوی اے۔
تھانیدار نے تانگا منگوایا اور ایک سپاہی کی ڈیوٹی لگائی۔
جا وارث صاحب نوں سلطان پورہ چھڈ کے آ۔ کدھرے کوئی ہور پولیس والا نہ پھڑ لوے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پنجابی گیتوں کو عظمت بخشنےوالا نغمہ نگار
وارث لدھیانوی
پاکستان میں بڑی شاندار پنجابی فلمیں بنائی گئیں اور ان فلموں کی موسیقی بھی بڑی لاجواب تھی۔
1950ء سے بننے والی پنجابی فلموں نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ان فلموں کی کامیابی میں پوری ٹیم اہم کردار ادا کرتی تھی۔ سکرپٹ، ہدایت کاری اور اداکاری کے علاوہ فلم کی موسیقی پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔ اس دور میں بابا جی اے چشتی، صفدر حسین، سلیم اقبال، رشید عطرے اور اختر حسین کا طوطی بولتا تھا۔ بعد میں جن موسیقاروں نے پنجابی فلموں کے ذریعے مقبولیت حاصل کی ان میں وجاہت عطرے، وزیر افضل، طافو، بخشی وزیر اور ماسٹر عبداللہ کے نام لئے جا سکتے ہیں۔ مذکورہ بالا موسیقاروں میں کئی ایسے تھے جو نہ صرف پنجابی بلکہ اُردو فلموں کا سنگیت بھی دیتے تھے اور اس میدان میں بھی انہوں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ پھر ہمارے پنجابی گیت نگاروں نے بھی کمال کر دکھایا۔
انہوں نے ایسے ایسے باکمال گیت تخلیق کیے کہ آج بھی ان کو سُن کر دِل کے تار بجنے لگتے ہیں۔ ان میں سرِفہرست تو احمد راہی اور حزیں قادری ہیں۔ اِن دونوں نے اتنا شاندار کام کیا کہ انہیں جتنی بھی داد دی جائے کم ہے۔ ان دونوں نے ایک تو بے مثال کام کیا اور دوسری بات یہ ہے کہ بہت کام کیا۔ انہوں نے گیت نگاری کے علاوہ پنجابی فلموں کے سکرپٹ اور مکالمے بھی لکھے۔ پنجابی فلموں کے نغمات کے حوالے سے ایک ا ور نام بڑا اہم ہے اور وہ ہے وارث لدھیانوی۔ وارث لدھیانوی کے گیتوں نے بھی احمد راہی اور حزیں قادری کی طرح بہت مقبولیت حاصل کی۔
وارث لدھیانوی 11 اپریل 1928ء کو لدھیانہ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام چودھری محمد اسماعیل تھا۔ وہ ابتداء میں عاجز تخلص کرتے تھے۔ جب وہ اُستاد دامن کے شاگرد ہوئے تو وارث تخلص کر لیا۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انہوں نے پنجابی گیت نگاری کو نئی عظمتوں سے روشناس کیا۔ ان کی گیت نگاری دیگر نغمہ نگاروں سے کچھ الگ تھی۔ وہ پنجابی لوک گیتوں کو بھی اپنے تخلیق کردہ نغمات کا تڑکہ لگاتے تھے۔ ان کی زبان بڑی سادہ اور پُراثر تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے گیتوں نے بہت شہرت حاصل کی اور وہ زبان زدِعام ہوئے۔ حزیں قادری اور احمد راہی کے علاوہ ایک اور بڑے شاعر بھی پنجابی گیت نگاری کے میدان میں آ گئے اور اُن کا نام تھا تنویر نقوی۔ تنویر نقوی بھارت سے پاکستان آئے تھے اور ان کی نغمہ نگاری کا ڈنکا پورے بھارت میں بجتا تھا۔ پھر جب وہ پاکستان آئے تو انہوں نے بہت عرصے تک اُردو فلموں کے نغمات لکھے لکھے اور بہت مقبولیت حاصل کی۔ لیکن جب وہ پنجابی فلموں کی گیت نگاری کی طرف آئے تو انہوں نے یہاں بھی کمال کر دکھایا۔
جب اُن کے ابتدائی گیت مقبول ہوئے تو پھر تنویر نقوی نے تسلسل سے پنجابی گیت لکھنے شروع کر دئیے۔ اس طرح ایک مسابقت کا عمل شروع ہوگیا۔ ان جیسے گیت نگاروں کی موجودگی میں رہنا اور ایک الگ مقام بنانا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ لیکن وارث لدھیانوی نے یہ کام کر دکھایا۔ انہوں نے اپنی ایک الگ شناخت بنائی۔ وارث لدھیانوی نے اُستاد دامن سے بہت کچھ سیکھا اور انہوں نے بارہا اِس کا اعتراف بھی کیا، ایک بار انہوں نے یہ کہا تھا کہ یہ اُن کی خوش بختی ہے کہ انہیں اُستاد دامن کی شاگردی نصیب ہوئی۔
وارث لدھیانوی کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے و قت کے ساتھ اپنے آپ کو تبدیل کیا۔ ان کا سفر ایک جگہ کبھی ختم نہیں ہوا۔ وہ زمانے کے ساتھ چلتے رہے۔ 50 اور 60 کی دہائی میں ان کی گیت نگاری کا انداز کچھ اور تھا لیکن 70 اور 80 کی دہائی میں ہمیں ان کی نغمہ نگاری کی نئی پرتیں دیکھنے کوملتی ہیں۔ یہی خوبی احمد راہی، حزیں قادری اور تنویر نقوی کی تھی۔ اس حوالے سے موسیقی کار رشید عطرے کا نام بھی لیا جا سکتا ہے۔ لیکن انہوں نے پنجابی فلموں کا زیادہ میوزک نہیں دیا۔ وہ بہرحال ایک بڑے موسیقار تھے۔
وارث لدھیانوی نے اپنے فن کے چراغ کو ہمیشہ روشن رکھا اور جب تک وہ فلمی گیت لکھتے رہے ان کا انداز سب سے جُدا رہا۔ وہ ایسے نغمہ نگار تھے جو فلم کے موسیقاروں سے بھی مشورے لیتے تھے اور فلمی مناظر کی سچویشن کے عین مطابق نغمات تخلیق کرتے تھے۔ فلمی اداکاروں اور اداکاراؤں سے بھی اس حوالے سے وہ گفت و شنید کرتے رہتے تھے۔
وارث لدھیانوی ایک بہت اچھے انسان بھی تھے۔ وہ بڑے عالی ظرف اور وسیع القلب آدمی تھے۔ کہتے ہیں وہ کسی کی برائی نہ کرتے تھے اور نہ سنتے تھے۔ انہوں نے دوسرے گیت نگاروں کا ہمیشہ احترام کیا اور وہ ان کی فنی عظمت کا ببانگِ دہل اعتراف کرتے تھے۔ وہ تنگ نظر نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے کبھی تعصب سے کام لیا۔
دوسرے نغمہ نگاروں کی طرح وارث لدھیانوی بھی اس حوالے سے خوش قسمت تھے کہ انہیں اعلیٰ پائے کے سنگیت کار ملے جنہوں نے ان کے گیتوں کو امر کر دیا۔وارث لدھیانوی کو سب سے پہلے ’’کرتار سنگھ‘‘ کے ایک گیت سے شہرت ملی۔ یہ گیت آج بھی اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کے بول تھے ’’دیساں دا راجا میرے بابل دا پیارا، امبڑی دے دِل دا سہارا وے ویر میرا گھوڑی چڑھیا‘‘۔ یہ فلم 1959ء میں ریلیز ہوئی۔ اس فلم کو پاکستان کی سب سے بڑی پنجابی فلم قرار دیا جاتا ہے۔ اسی طرح اس گیت کو بھی لازوال کہا جا سکتا ہے۔
بعد میں انہوں نے بے شمار پنجابی فلموں کیلئے گیت لکھے۔ ان فلموں میں ’’ماہی منڈا، جٹی، مکھڑا، ناجی، مٹی دیاں مورتاں، ہیر سیال، لچھی، یاردیس پنجاب دے، میلے سجناں دے، ضدی، خوشیا، نوکر ووہٹی دا، وحشی جٹ الٹی میٹم، شیر خان، شعلے، انگارہ، اور جانباز‘‘ خاص طور پر شامل ہیں۔
ذیل میں ہم اپنے قارئین کی خدمت میں ان کے چند شاہکار پنجابی گیت پیش کر رہے ہیں۔
گوری گوری چاندنی دی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاں نیں
دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا
بن دلدار ہانیاں
جھانجھر دی پانواں چھنکار
جے میں ہوندی ڈھولنا سونے دی تویتری
میں چڑھی چوبارے عشق دے
پانویں مینوں کملی کہہ لے پانویں کہہ لے جھلّی
مینوںتیرے جیا سوہنا دلدار ملیا
پاگل نیں اوجیڑے سچا پیار کسے نل کردے نیں
دلا ٹھہرجا یار دا
ایناں کولوں چنگیاں نیں مٹی دیاں مورتاں
5 ستمبر 1992ء کو وارث لدھیانوی لاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات سے پنجابی گیت نگاری کا ایک اہم باب بند ہو گیا۔ ٭…٭…٭
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

معروف شاعر رئیس فروغ کی برسی
نامور شاعر ماہر القادری کا یومِ پیدائش
معروف شاعر شاذ تمکنت کا یومِ وفات
ادبی دنیا کی معروف شخصیت محترمہ فاطمہ ثریا بجیا کا یوم پیدائش
نامور شاعر، داغ دہلوی کے داماد سائل دہلوی کا یوم وفات
معروف ادیب غلام حسن شاہ کاظمی کا یوم پیدائش
معروف شاعر شوکت واسطی کا یوم پیدائش
معروف شاعر ندا فاضلی کا یومِ وفات
معروف افسانه نگار اور ادیبہ عصمت چغتائی کا یومِ وفات
معروف شاعر ظہیر غازی پوری کا یوم پیدائش