پھر اہلِ حرم سے ملاقات ہوتی

پھر اہلِ حرم سے ملاقات ہوتی

پھر اشکوں سے کچھ شرحِ جذبات ہوتی

 

دمِ دید پھر جلوہء نو بہ نو سے

مرے چشم و دل کی مدارات ہوتی

 

مدینے کی پُرنور دلکش فضا میں

نظر محوِ دیدِ مقامات ہوتی

 

مدینہ کے احباب ہمراہ ہوتے

شبِ ماہ میں سیرِ باغات ہوتی

 

خبر کچھ نہ رہتی زمین و زماں کی

وہ محویتِ خاص دن رات ہوتی

 

پہنچ جائیں پائینِ اقدس کی جانب

یہی آرزو اکثر اوقات ہوتی

 

دعاوں میں جامی کے اشعار پڑھتے

نظامی کی لب پر مناجات ہوتی

 

اِدھر چشمِ پرنم سے آنسو ٹپکتے

اُدھر رحمتِ حق کی برسات ہوتی

 

فرشتے جسے سن کے آمین کہتے

اک ایسی دعا بعض اوقات ہوتی

 

امتنی بہذا البلد! یا الہی

دعا یہ حمید! اپنی دن رات ہوتی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مقامِ مصطفیٰؐ، اللہ ہی اللہ
کوئے محبوبؐ کی گدائی ملے
صاحبِ حُسن و جمالؐ! آیا ہوں
سخن کے خار زار کو حسِیں گُلاب مل گئے
مری سرکارؐ کا فیض و عطا، جاری و ساری ہے
مدحِ خیر الانام جاری ہے
عجیب رہتا ہے اب تک خمار آنکھوں میں
ہُوئی تھی اُن سے ملاقات خاکِ طیبہ کی
شبِ تمنا کے تلخ لمحوں کی روشنی ہے
جب اپنے نامۂ اعمال پر مجھ کو ندامت ہو