اردوئے معلیٰ

پھول نعتوں کے سدا د ل میں کھلائے رکھنا

پھول نعتوں کے سدا د ل میں کھلائے رکھنا

اپنی ہر سانس کو خوشبو میں بسائے رکھنا

 

ان کے ارشاد دل و جاں سے مقدم رکھنا

ان کی سیرت پہ سدا سر کو جھکائے رکھنا

 

جانے کس پہر دبے پاؤں وہ اتریں دل میں

اشک پلکوں پہ سرِ شام سجائے رکھنا

 

چاہتے ہو تمہیں آقا کی غلامی مل جائے

فصل سینے میں محبت کی اگائے رکھنا

 

روشنی اتنی ہے منزل بھی دھواں لگتی ہے

آپ رہبر ہیں مجھے راہ دکھائے رکھنا

 

آرزو ہے! مرا خطہ یونہی آباد رہے

ابر رحمت کے سدا اس پر جھکائے رکھنا

 

آسؔ ہو جائے گی آقا کی زیارت بھی نصیب

ان کی راہوں میں نگاہوں کو بچھائے رکھنا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ