چاشنی چاشنی لہجہ جس کا

چاشنی چاشنی لہجہ جس کا

آج کل تلخیاں فرماتا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اشک میں ڈھل کے آؤں گا
تنہائیِ شب میں ترے ہونے کی تمنّا
نہ ہو برہم جو بوسہ بے اجازت لے لیا میں نے
کچھ اس لیے بھی مسلسل سفر میں رہتا ہوں
مجھ کو شریکِ غم بنا، اپنا شریکِ حال رکھ
کہنا قاصد کہ اس کے جینے کا
کسی کا لہجہ یقیناً فریب لگتا تھا مگر
مرے گمان سے وہ شخص مرنے والا ہے
اے دل کسے نصیب یہ توفیق اضطراب
اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں