اردوئے معلیٰ

 

چراغ عشق جلا ہے ہمارے سینے میں

بدن یہاں ہے مگر روح ہے مدینے میں

 

حضورِ پاک کے قدموں کی خاک مل جائے

عطا کی کوئی نہیں ہے کمی خزینے میں

 

میں کربلا سے چلوں اور حرم میں جا پہنچوں

کرم ہو مجھ پہ محرم کے اس مہینے میں

 

سنہری جالیاں چوموں تو دم نکل جائے

پھر اس کے بعد بہت لطف آئے جینے میں

 

میں بحرِ عشق میں ڈوبا ہوں اس قدرقیصرؔ

جگہ بھنور کو بھی مل جائے گی سفینے میں

 

نبی کے نام پہ سب کچھ عطا ہوا قیصرؔ

کوئی قرینہ نہیں تھا مرے قرینے میں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات