اردوئے معلیٰ

Search

چلے نہ ایمان اک قدم بھی اگر تیرا ہمسفر نہ ٹھہرے

ترا حوالہ دیا نہ جائے تو زندگی معتبر نہ ٹھہرے

 

تُو سایہء حق پہن کے آیا، ہر اک زمانے پہ تیرا سایہ

نظر تری ہر کسی پہ لیکن کسی کی تجھ پر نظر نہ ٹھہرے

 

لبوں پہ اِیاکَ نستعیں ہے اور اس حقیقت پہ بھی یقیں ہے

اگر ترے واسطے سے مانگوں کوئی دعا بے اثر نہ ٹھہرے

 

حقیقتِ بندگی کی راہیں مدینہء طیبہ سے گزریں

ملے نہ اُس شخص کو خدا بھی جو تیری دہلیز پر نہ ٹھہرے

 

کُھلی ہوں آنکھیں کہ نیند والی ، نہ جائے کوئی بھی سانس خالی

درور جاری رہے لبوں پر ، یہ سلسلہ لمحہ بھر نہ ٹھہرے

 

میں تجھ کو چاہوں اور اتنا چاہوں کہ سب کہیں تیرا نقشِ پا ہوں

ترے نشانِ قدم کے آگے کوئی حسیں رہگزر نہ ٹھہرے

 

یہ میرے آنسو خراج میرا، مرا تڑپنا علاج میرا

مرض مرا اُس مقام پر ہے جہاں کوئی چارہ گر نہ ٹھہرے

 

دکھا دو جلوہ بغور اُس کو ، بُلا لو اک بار اور اُس کو

کہیں مظفر بھی شاخ پر سوکھ جانے والا ثمر نہ ٹھہرے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ