اردوئے معلیٰ

Search

چند لمحے ہی سہی لیکن ملی ہے زندگی

میں چلو فانی ہوا کیا دائمی ہے زندگی

 

اور ہی کچھ مہرباں ہستی ہے دنیا کے لیے

یا مرے حصے میں جو آئی وہی ہے زندگی

 

زندگی کو کس قدر حسرت سے تکتا تھا کبھی

آج اک حسرت سے جس کو دیکھتی ہے زندگی

 

دیدہ و دل فرشِ راہِ شوق تھے ، مٹی ہوئے

اب تمہارا لوٹ آنا لازمی ہے زندگی

 

ڈوبتی آنکھوں سے تکتا ہوں پسِ دیوار میں

دوسری جانب جھکائے سر کھڑی ہے زندگی

 

نیم جاں بیٹھا ہوا ہوں مرگ کے پیڑوں تلے

اور زانو پر مرے سوئی ہوئی ہے زندگی

 

مدتوں سے دل گھٹا ہے دم بخود سانسیں مری

حآدثہ ہونے سے پہلے رک گئی ہے زندگی

 

تیر پہلو میں لگا ہے مرگِ خوابِ شوق کا

شدتِ تکلیف سے دوہری ہے زندگی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ