اردوئے معلیٰ

ڈوب جاتا ہے یہاں تیرنا آتا ہے جسے

ڈوب جاتا ہے یہاں تیرنا آتا ہے جسے

وہ کبھی ناؤ تھی دریا لیے جاتا ہے جسے

 

تیرا سایہ ہے لرزتا ہے جسے دیکھ کے تو

اور آئینہ ہے ، تو یہ آنکھ دکھاتا ہے جسے

 

باغباں بھی ہے یہی وقت یہی گل چیں بھی

توڑ لیتا ہے وہی پھول اُگاتا ہے جسے

 

ساری ہستی پہ نہ لے آئے وہ آفت کوئی

کون ہے کوہِ ندا روز بلاتا ہے جسے

 

ہم تو خوشبو کی طرح خود ہی بکھر جاتے ہیں

تم وہ دیوار کہ مزدور اٹھاتا ہے جسے

 

ٹوٹتے رشتے بھی اس درد سے جُڑ سکتے ہیں

آدمی پاؤں کی زنجیر بناتا ہے جسے

 

یہ چمکتی ہوئی آنکھیں یہ دمکتے ہوئے لب

ہے کوئی بات مظفرؔ سے چھپاتا ہے جسے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ