کاش ابروئے شہِ دین کا جلوہ دیکھیں

 

کاش ابروئے شہِ دین کا جلوہ دیکھیں

تب مرے اشکِ رواں عید کا چہرہ دیکھیں

 

دل کرے صبح و مسا اسمِ محمد کا طواف

اور آنکھیں شہِ ابرار کا رستہ دیکھیں

 

اب تو اک جلوے کی خیرات عطا فرما دیں

کب سے پھیلا ہے مری آنکھ کا کاسہ دیکھیں

 

مہبطِ شوق ہے ترسیدہ بھی رنجیدہ بھی

قصرِ امید پہ ہے ہجر کا پہرہ دیکھیں

 

سر بہ خم رہتے ہیں افلاک سرِ شہرِ ارم

سر اٹھائیں تو مرے شاہ کا تلوہ دیکھیں

 

وہ جو مقبول ہوا بارگہِ مدحت میں

اوجِ قوسین پہ اس حرف کا رتبہ دیکھیں

 

میرے جرموں کو چھپا لینا ہمیشہ کی طرح

حشر میں لوگ نہ عاصی کا تماشہ دیکھیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نعلین گاہِ شاہ سے لف کر دیئے گئے
شاداں ہیں دونوں عالم، میلادِ مصطفیٰ پر
خطا ،ختن کے مشک سے دہن کو باوضُو کروں
اِک عقیدت کے ساتھ کہتا ہوں
وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے
یہ میری آنکھ ہوئی اشکبار تیرےؐ لیے
نظر میں کعبہ بسا ہوا ہے مدینہ دل کی کتاب میں ہے
اے بحرِ کرم محبوبِؐ ربّ اے شاہِ عربؐ
کیا شان شہنشاہ کونین نے پائی ہے
مجھے بھی لائے گا شوقِ سفر ’’مواجہ‘‘ پر

اشتہارات