اردوئے معلیٰ

Search

کاٹنا تھا محال رات ہمیں

کاٹنی پڑ گئی حیات ہمیں

 

میکدے عشق کے نہ چھٹتے تھے

تیرے صدقے ملی نجات ہمیں

 

ہم کہ ذروں سے ہارنے واے

اور درپیش کائنات ہمیں

 

کون سمجھا ہے آج تک آخر

کون سمجھائے گا یہ بات ہمیں

 

عمر داؤ پہ ایک عمر سے ہے

موت ہی آ سکی نہ مات ہمیں

 

اب تردد کی زحمتیں بھی نہیں

ڈھونڈ لیتے ہیں حادثات ہمیں

 

دل پہ عاشق ہے بے دلی ناصر

کھا گئے ہیں یہ التفات ہمیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ