کاٹنا تھا محال رات ہمیں

کاٹنا تھا محال رات ہمیں

کاٹنی پڑ گئی حیات ہمیں

 

میکدے عشق کے نہ چھٹتے تھے

تیرے صدقے ملی نجات ہمیں

 

ہم کہ ذروں سے ہارنے واے

اور درپیش کائنات ہمیں

 

کون سمجھا ہے آج تک آخر

کون سمجھائے گا یہ بات ہمیں

 

عمر داؤ پہ ایک عمر سے ہے

موت ہی آ سکی نہ مات ہمیں

 

اب تردد کی زحمتیں بھی نہیں

ڈھونڈ لیتے ہیں حادثات ہمیں

 

دل پہ عاشق ہے بے دلی ناصر

کھا گئے ہیں یہ التفات ہمیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ