اردوئے معلیٰ

کبریا شخص کبھی وقت کے قانون کو دیکھ

آگرہ دلّی نہیں کہہ رہا رنگوں کو دیکھ

 

وصف دریاؤں کے گنوانے سے پہلے اے شخص

مدحت دشت میں اپنے لکھے مضمون کو دیکھ

 

ایک ایمان بھرے جسم کو ٹھکرا آیا

اے مسلمان محبت دل ِ ملعون کو دیکھ

 

ایسا منظر نہیں ہر روز نظر آتا دوست

خاک پر لاش کی تصویر بنے خون کو دیکھ

 

اس کی آنکھوں میں مچلتی ہوئی ہاں ہاں نہ سمجھ

اس کے ہونٹوں پہ سکڑتی نہیں کی ” نون ” کو دیکھ

 

تری خواہش ہے کریں رقص ترے آگے لفظ ؟؟

تو غزل پڑھتے کسی دن ”علی زریون ” کو دیکھ

 

کوہکن قیس کے مسلک کی طرف داری کر

عشق کرنا ہے اگر تو رہ ِ مسنون کو دیکھ

 

دھاگے دھاگے سے اداسی کی مہک آتی ہے

کس طرح اونی گئی جرسی ذرا اون کو دیکھ

 

اس سے ملتے ہوئے کر دوہری محنت یارا

مخملیں گال دبا اور لب ِ شعفون کو دیکھ

 

زندگی جسم سے تا اسم اپاہج ہے فقیہہ

اس بھٹکتی ہوئی لاچار سی خاتون کو دیکھ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات