کب سے اک سمت بلاتا ہے ستارا ہم کو

کب سے اک سمت بلاتا ہے ستارا ہم کو

دیکھئے پھر سے کیا اسنے اشارا ہم کو

 

چل پڑے ہیں تری ہجرت کا تعاقب کرنے

نغمہِ بزم بلاتے ہوئے ہارا ہم کو

 

اب یہ عالم کہ سماعت پہ گراں گزرے ہیں

کل ترا جسم بھی کرتا تھا گوارا ہم کو

 

ہم کہ ناقابلِ تسخیر گنے جاتے تھے

وقت نے اور ہی ترکیب سے مارا ہم کو

 

تو نے منسوخ کیے دل کے صحائف یعنی

مسندِ عشق و عبادت سے اتارا ہم کو

 

تو بھرم رکھتے ہوئے اذنِ ہلاکت دے دے

یوں تو ابرو کا بھی کافی ہے اشارا ہم کو

 

پھٹ چکے کان خموشی کا دباؤ سہتے

تو بہت دیر میں ائے عشق پکارا ہم کو

 

تو سلامت ہو ترے رنگ ترے خواب جئیں

عجز نے تھک کے ترے روپ پہ وارا ہم کو

 

نہ کوئی گھاٹ نہ ساحل ہی بچانے آیا

لے گیا ساتھ ہی سیلاب کا دھارا ہم کو

 

سرو قد تھے سو زمیں بوس بصد شور ہوئے

ضبط دیتا ہی رہا لاکھ سہارا ہم کو

 

چاک کیا خاک سلیں گے کہ ستم گر تو نے

تار کے ساتھ ہی زخموں سے گزارا ہم کو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

قصہ ء خوب اور خراب پہ داد
ہر گام اُس طرف سے اشارہ سفر کا تھا
نہ میں موم ہوں اور نہ وہ سنگ ہے
تتلی سی کوئی پنکھ کی چادر سے اُڑی ہے
المیہ (اختتام)
ہم ترے طرزِ تجارت کو کہاں جانتے تھے
اس لب کی خامشی کے سبب ٹوٹتا ہوں میں 
معلُوم ھے جناب کا مطلب کچھ اَور ھے
یار کی دستک پہ بھی تُو نے یہ پُوچھا: کون ھے ؟
حسین ہونٹ اگر ہیں تو گال اپنی جگہ