کب سے لگی ہے اُس کی نشانی کتاب میں

کب سے لگی ہے اُس کی نشانی کتاب میں

کاغذ مڑا ہوا ہے پرانی کتاب میں

 

خلقِ خدا میں ٹھہری وہی سب سے معتبر

لکھی نہ جا سکی جو کہانی کتاب میں

 

طاقت ہے کس قلم میں کہ لکھے حدیثِ عشق

ملتی ہے یہ کسی سے زبانی کتاب میں

 

اربابِ جہل کرنے لگے شرحِ حرفِ عشق

مت کیجئے تلاش معانی کتاب میں

 

منشورِ حق کے ہوتے مجھے کیا غرض بھلا

لکھا ہے کیا فلاں نے فلانی کتاب میں

 

کیسے اٹھے گی دستِ سہولت شعار سے

ناموسِ حرف کی ہے گرانی کتاب میں

 

کاغذ خراب حال، عبارت اڑی ہوئی

دیکھو مری شکستہ بیانی کتاب میں

 

فیضِ قلم سے آ گئی مجھ کو بھی اب ظہیرؔ

اشکوں کی آبشار بنانی کتاب میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کسی نے پیڑ ہی کچھ اسطرح اُگائے تھے
ہے چُبھن مستقل قرار کے ساتھ
اس بے کل دل کی دھڑکن سے چاہت کا اک تار بندھا ہے
جو رہے یوں ہی غم کے مارے ہم
چاہے آباد ہوں، چاہے برباد ہوں، ہم کریں گے دعائیں تمھارے لئے
کوئی نہیں ھے یہاں جیسا خُوبرُو تُو ھے
مِرا تماشہ ہوا بس تماش بینو! اُٹھو
دکھانے کو سجنا سجانا نہیں تھا
غم چھایا رہتا ہے دن بھر آنکھوں پر
مِری شہ رگ ہے، کوئی عام سی ڈوری نہیں ہے

اشتہارات