اردوئے معلیٰ

کربلا ہے نشاں شہادت کا

کربلا ہے نشاں شہادت کا

استعارہ وفا و جرأت کا

 

سارا کنبہ نثارِ دیں کر کے

حق ادا کر دیا امامت کا

 

آ گئی پھر نمی سی آنکھوں میں

آ گیا پھر مہینہ حرمت کا

 

دل میں لہرا رہا ہے میرے علم

آلِ اطہار کی محبت کا

 

پنجتن کا غلام ہوں آصف

خوف کیوں کر ہو پھر قیامت کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ