اردوئے معلیٰ

Search

کربل کی فضا کہتی ہے شبیر ، اماں ہو

مقتل کی بڑھا آئے ہو توقیر ، اماں ہو

 

حلقوم علی اصغر معصوم سے نکلا

بدلے میں فقط پیاس کے ، اک تیر ، اماں ہو

 

عباس علمدار ترے سامنے دریا

شرمندہ ہے ، مدت سے ہے دلگیر ، اماں ہو

 

زینب کی صداؤں سے ابھی گونج رہی ہے

کربل کی فضا اب بھی ، مرے ویر ، اماں ہو

 

اے رسم عزا تیری رہے خیر ہمیشہ

اے پشت پہ پڑتی ہوئی زنجیر ، اماں ہو

 

محسوس تو کر تو بھی غم فاطمہ زہرہ

چیخے گا تری آنکھ کا ہر نیر ، اماں ہو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ