کرم ہو یارب لحد میں اتنا، سوال ہو سامنے جو ان کے

کرم ہو یارب لحد میں اتنا، سوال ہو سامنے جو ان کے

نظر بھی پہچان کے یہ ان کو، جو رہنما ہیں دلوں میں بس کے

گئے ہیں آگے وہاں سے بڑھ کر، حجابِ عرش بریں میں ہو کر

جہاں پر سدرہ نشیں کی جرأت پروں کو بھی باندھتی ہے کس کے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

وہی جو مستوی عرش ہے خدا ہو کر
ستار ہے تو نہ کر مجھے بے پروا
تمنا سروری کی ہے نہ حسرت مال و زر کی
آپؐ کے نُور کی ضیاء کہیے
وہی اللہ کے پیغام بر ہیں
ہمارے رہنما، رہبر محمدؐ
نہ دولت سے ہے، نہ گھر بار سے ہے
ہے شہرہ آپؐ کا سارے جہاں میں
’’ گونج گونج اُٹھّے ہیں نغماتِ رضاؔ سے بوستاں ‘‘
’’پیا ہے جامِ محبت جو آپ نے نوریؔ ‘‘

اشتہارات