اردوئے معلیٰ

کرن کرن اُس رُخِ منور کا معجزہ ہے

تمام خوشبو ، اُسی گلِ تر کا معجزہ ہے

 

زہے مقدر ، نشانِ منزل تک آ گیا ہوں

مرا سفر ، نقشِ پائے رہبر کا معجزہ ہے

 

مرا قلم موتیوں سے الفاظ لکھ رہا ہے

یہ معجزہ ، رحمتوں کے ساگر کا معجزہ ہے

 

بصارتوں نے جہاں میں جتنا بھی حُسن دیکھا

جمالِ ذاتِ خدا کے مظہر کا معجزہ ہے

 

اجل کا لمحہ شکست کھا کر پلٹ چکا ہے

میں جی رہا ہوں ، مرے پیمبر کا معجزہ ہے

 

خیال سارے اُسی کے در کی عطا ہیں اخترؔ

کلام سارا اُسی سُخنور کا معجزہ ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات