کسی نے پیڑ ہی کچھ اسطرح اُگائے تھے

کسی نے پیڑ ہی کچھ اسطرح اُگائے تھے

وہاں پہ دھوپ دھری ہے جہاں پہ سائے تھے

 

پھر اُس کے بعد نَدی میں اُتر گیا تھا چاند

بس ایک بار ستارے سے جھلملائے تھے

 

نجانے گھاس کناروں کی کیوں نہیں چمکی

دیئے جلا کے تو ہم نے بہت بہائے تھے

 

لہولہان ہیں جن سے تمام شہر کے لوگ

کوئی بتائے یہ پتھر کہاں سے آئے تھے

 

ہوا نے چھین لئے اور اُڑا دیئے اشعرؔ

کہ ہم نے آنکھ سے جو نقشِ پا اُٹھائے تھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

باالیقیں مروہ ، صفا پر زندگی ہے آپؐ سے
محور
اتنے مُختلف کیوں ھیں فیصلوں کے پیمانے ؟
کیسی شدت سے تجھے ہم نے سراہا ، آہا
کوئی دیکھتا ہے تو دیکھ لے، مجھے عید مِل
زخم ، بھر بھی جائے توکتنا فرق پڑتا ہے؟
نہ سُنی تم نے ، کوئی بات نہیں
خلعتِ خاک پہ ٹانکا نہ ستارہ کوئی
اب بھی ہے یاد مجھ کو پہلی لگن کا جادُو
ممکن ہوا نہ لوٹ کے آنا کبھی مجھے

اشتہارات