کسی نے پیڑ ہی کچھ اسطرح اُگائے تھے

کسی نے پیڑ ہی کچھ اسطرح اُگائے تھے

وہاں پہ دھوپ دھری ہے جہاں پہ سائے تھے

 

پھر اُس کے بعد نَدی میں اُتر گیا تھا چاند

بس ایک بار ستارے سے جھلملائے تھے

 

نجانے گھاس کناروں کی کیوں نہیں چمکی

دیئے جلا کے تو ہم نے بہت بہائے تھے

 

لہولہان ہیں جن سے تمام شہر کے لوگ

کوئی بتائے یہ پتھر کہاں سے آئے تھے

 

ہوا نے چھین لئے اور اُڑا دیئے اشعرؔ

کہ ہم نے آنکھ سے جو نقشِ پا اُٹھائے تھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مُجھے اک رس بھری کا دھیان تھا، ھے اور رھے گا
پہنچ سے دُور ، چمکتا سراب ، یعنی تُو
میں عِشق زار میں اِس دِل سمیت مارا گیا
گناہ کیا ہے؟ حرام کیا ہے؟ حلال کیا ہے؟ سوال یہ ہے
مسلسل ذہن میں ہوئی غارت گری کیا ہے
کمبخت دل کو کیسی طبیعت عطا ہوئی
وہ رات میاں رات تھی ایسی کہ نہ پوچھو
کرتا ہے جنوں شام و سحر ورق سیاہ بھی
پا ہی گئی ہے خاک ٹھکانہ ، خاکِ ازل کی پرتوں میں
اک حدِ اعتدال پہ لرزاں ہے دیر سے