کسی نے پیڑ ہی کچھ اسطرح اُگائے تھے

کسی نے پیڑ ہی کچھ اسطرح اُگائے تھے

وہاں پہ دھوپ دھری ہے جہاں پہ سائے تھے

 

پھر اُس کے بعد نَدی میں اُتر گیا تھا چاند

بس ایک بار ستارے سے جھلملائے تھے

 

نجانے گھاس کناروں کی کیوں نہیں چمکی

دیئے جلا کے تو ہم نے بہت بہائے تھے

 

لہولہان ہیں جن سے تمام شہر کے لوگ

کوئی بتائے یہ پتھر کہاں سے آئے تھے

 

ہوا نے چھین لئے اور اُڑا دیئے اشعرؔ

کہ ہم نے آنکھ سے جو نقشِ پا اُٹھائے تھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ