کشش تجھ سی نہ تھی تیرے غموں می

کشش تجھ سی نہ تھی تیرے غموں میں

لب و لہجہ مگر ہاں ہو بہ ہو تھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اس کے لہجہ میں شکا یت تو کہیں پنہاں تھی
یہ کون مجھ کو ادھورا بنا کے چھوڑ گیا
بزم احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے
تو میں وہموں کی ماری بس وہیں پر بیٹھ جاتی ہوں
عشق میں عمر کی تخصیص کہاں ہے کومل
مرے بچے ! تری دولہن کچن آکر سنبھالے گی
کیا یہ سچ ہے کہ خزاں میں بھی چمن کھلتے ہیں
ترے دکھ نے بہت سارے دکھوں کو پال رکھا ہے
قرار دل کو سدا جس کے نام سے آیا
کتنے بھی ہوں خلیق و دل آویز و پُر تپاک