کمبخت ہو برا دلِ خانہ خراب کا

کمبخت ہو برا دلِ خانہ خراب کا

مجھ پر عذاب کر دیا عالم شباب کا

 

دیکھا جو میں نے نامۂ اعمال حشر میں

قصہ لکھا تھا میرے اور ان کے شباب کا

 

ہیں یاد ان کی آج تک دل فریبیاں

کچھ دیر خواب دیکھا تھا ہم نے شباب کا

 

میرے لیے تو دونوں قیامت سے کم نہ تھے

طفلی کا ان کا عہد ، زمانہ شباب کا

 

دیکھی جو اچھی شکل طبیعت مچل گئی

کچھ پوچھیے نہ حال ہمارے شباب کا

 

عالم میں غفلتوں کے وہ دونوں گزر گئے

طفلی کا عہد اور زمانہ شباب کا

 

ہم نے بھی دل کو تھام لیا سن کے یہ خبر

اب آ گیا ہے ان کا زمانہ شباب کا

 

گرمی بڑھی ، رگوں میں لہو دوڑنے لگا

پیری میں یاد آیا زمانہ شباب کا

 

ہوتی میں دردِ دل میں بھی محسوس لذتیں

ہے حاصلِ حیات زمانہ شباب کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ