اردوئے معلیٰ

کوئی لمحہ کبھی لمحات سے کٹ کر آئے

اب وہ آئے تو روایات سے ہٹ کر آئے

 

دل کی یہ خام خیالی ہے کہ بہلے گا کبھی

عشق موسم تو نہیں ہے کہ پلٹ کر آئے

 

تُو فقط تُو تو نہیں تھا ، کہ تری صورت میں

دل کی دہلیز پہ افلاک سمٹ کر آئے

 

تھی ہمیں ضبط کی ڈھالیں تو میسر لیکن

تیر ان آہنی ڈھالوں سے اچٹ کر آئے

 

تُو اگر اذنِ سفر دے ، تو کہاں جائیں گے

ہم یہاں بھی ترے قدموں سے لپٹ کر آئے

 

چھاننی سے تو بہر طور گزر آئے ہیں

ہم بھلے سیکڑوں ذرات میں بٹ کر آئے

 

چند لمحات یہیں ، عمرِ گریزاں ، دم لے

ہم ابھی کارِ زمانہ سے نمٹ کر آئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات