کوئی نبیؐ نہیں سلطانِ انبیا کی طرح

کوئی نبیؐ نہیں سلطانِ انبیا کی طرح

قریبِ رب نہیں کوئی بھی مصطفیٰؐ کی طرح

 

بشر کے رُوپ میں نورِ خدا کے پیکر ہیں

کوئی بشر نہیں محبوبِ کبریا کی طرح

 

نکالا ہم کو جہالت کے اندھے غاروں سے

نہ آیا جگ میں کوئی میرے رہنما کی طرح

 

جمالِ یوسفِ کنعاں پہ دل مرا قرباں

ہے یہ بھی سچ نہیں وہ حُسنِ والضحیٰ کی طرح

 

ہیں یوں تو اور بھی اصنافِ شاعری لیکن

کسی کا رُتبہ نہیں نعتِ مصطفیٰؐ کی طرح

 

رضا کا حُسنِ تخیل ہے رہنما میرا

کہ نعت گو نہیں کوئی مرے رضا کی طرح

 

انھیں کا عشق مُشاہدؔ بنے گا نورِ لحد

کسی کا عشق نہیں عشقِ مصطفیٰؐ کی طرح

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اُمت کے لیے اُسوۂ کامل کا نمونہ
کوئی ہم پایہ ، نہ ثانی ترا کونین میں ہے
سلسبیلِ نور
یا رب میرا چھوٹا سا اک کام تو کردے
محبتِ شاہِ ﷺ دین و دنیا کے کھل رہے ہیں چمن ہزاروں
ہر مَرَض کی دوا درود شریف
درِ حضور ﷺ پہ کچھ ناصبور اشک کہیں
رسول اللہ ﷺ کی ہم کو شفاعت کا وسیلہ ہے
مُہر غلامی کی میں پاؤں گا مدینے سے
سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا ﷺ کا منصب جداہے