کون جانے کس بلندی پر مرے سرکار ہیں

کون جانے کس بلندی پر مرے سرکار ہیں

سب جہاں مجبور ہیں یہ احمد مختار ہیں

 

کہہ دو یہ اُن سے جو حق کے طالب دیدار ہیں

حق سے ملنے کے مدینہ ہی میں کچھ آثار ہیں

 

آسماں والے بھی کرتے ہیں مدینہ کا طواف

عرش اعظم سے بھی اونچے یہ در و دیوار ہیں

 

کیوں نہ آنکھوں سے لگائیں ہم مدینہ کی زمیں

اس پہ خود سرکار کے قدموں کے بھی آثار ہیں

 

شکر خالق ہم در سرکار پر تنہا نہیں

آسماں والے بھی استادہ پسِ دیوار ہیں

 

آسماں والوں کی کُل اوقات دیکھی ہے یہیں

گھر میں نوکر ہیں تو دروازہ پہ چوکیدار ہیں

 

یہ بھی ہے سرکار کے گھر کا اک ادنٰی معجزہ

اس گھرانے میں سبھی سرکار ہی سرکار ہیں

 

کیا کہوں سرکار کی عظمت کی منزل ہے کہاں

اِن پہ جو قربان ہیں وہ حیدرِ کرار علیہ السلام ہیں

 

گو بظاہر قبر اقدس پر نہیں جلتا چراغ

غور سے دیکھو تو پھر انوار ہی انوار ہیں

 

ہم نے دیکھا ہے مدینہ میں قیامت کا سماں

سنتے تھے اک دوسرے کے پاس نور و نار ہیں

 

قبر تک جانے کی پابندی سے چلتا ہے پتہ

کچھ پرانی دشمنی کے آج تک آثار ہیں

 

ہے اسی شہر مدینہ میں وہ میدانِ احد

کوہ پر جس کے بڑے اصحاب کے آثار ہیں

 

مسجدیں تو ہیں بہت میدانِ خندق میں‌ مگر

فاتح اعظم فقط اک حیدر کرار ہیں

 

ہم سے پہلے کیوں‌ نہ آ جاتے مدینہ میں کلیم

اک زمانے سے وہ ان کے طالب دیدار ہیں​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ