اردوئے معلیٰ

کچھ اور نہ بن پائے بھلے شہر بدر سے

دل بیل کی مانند لپٹ جائے گا در سے

 

پہنچا ہوں کسی اور ہی دنیا میں کہیں پر

لوٹا ہوں کسی اور زمانے کے سفر سے

 

ناقابلِ تشریح تھی رفتار قضا کی

آنکھیں ہی فقط موند سکا موت کے ڈر سے

 

اب ترکِ تمنا کی وہ منزل ہے جہاں پر

شکوہ بھی نہیں کوئی دلِ سوختہ سر سے

 

روتا ہے جو خاموش دریچوں سے لپٹ کر

نکلا تھا کسی خواب کی آواز پہ گھر سے

 

مجمع جو لگاتا ہے تجھے بیچنا کیا ہے

پوچھوں تو سہی آج دلِ شعبدہ گر سے

 

ائے غنچہِ نوخیزِ خیابانِ وفا ، تو

محفوظ رہے کاش مرے عشق کے شر سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات