کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا

کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا

اس کی دولت ہے فقط نقشِ کف پا تیرا

 

لوگ کہتے ہیں کہ سایہ تیرے پیکر کا نہ تھا

میں تو کہتا ہوں جہاں بھر پہ ہے سایہ تیرا

 

ایک بار اور بھی طیبہ سے فلسطین میں آ

راستہ دیکھتی ہے مسجد اقصیٰ تیرا

 

اب بھی ظلمات فروشوں کو گلہ ھےتجھ سے

رات باقی تھی کہ سورج نکل آیا تیرا

 

مشرق و مغرب میں بکھرے ہوئے گلزاروں کو

نکہتیں بانٹتا ہے آج بھی صحرا تیرا

 

پورے قد سے جو کھڑا ہوں تو یہ تیرا ہے کرم

مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مدینہ کا سفر جاری و ساری
درودوں کا وظیفہ لمحہ لمحہ دم بدم رکھیں
حضور آپ کا اسوہ جہانِ رحمت ہے
جس کو آیا قرینہ مدحت کا
صبحِ بزمِ نو میں ہے یا شامِ تنہائی میں ہے
کیا عجب لطف و عنایات کا در کھُلتا ہے
طُرفہ انداز لیے اُن کے کرم کی صورت
کچھ اور ہو گا رنگِ طلب ، جالیوں کے پاس
شاہ بطحا کی اگر چشم عنایت ہوگی
ہر جگہ اہل ایمان غالب رہے

اشتہارات