کچی عمر کی چاہت

میری کچی عمر کی چاہت
تمہیں معلوم ہوگا
اِس کنواری عمر کی چاہت
کے سارے نقش
سارے رنگ
پکے،دیرپا
انمٹ،امر
ہوتے ہیں
میں تم کو بھلا دیتا
مگر یہ غیر ممکن ہے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

صبحِ آزادی
شکست
ایسی غزلیں نظمیں آخر کیسے لکھوں
مستند ہے یوں تو سارے انبیأ کی روشنی
لکھوں جب شعر میں شاہِ اُمم پر
بجھ گیا دیپ بھی جلتا جلتا
گہری نیند (سیلاب کے موقع پر لکھی گئی ایک نظم)
تمام رات مرے جسم و جاں مہکتے رھے
وہ عجیب خانہ بدوش تھا
مکالمہ مابین مسلمان اور سوشلسٹ