اردوئے معلیٰ

کہے دیتے ہیں گھبرا کر نکل آؤ گے محفل سے

کہے دیتے ہیں گھبرا کر نکل آؤ گے محفل سے

اگر بے ساختہ نالہ کوئی نکلا میرے دل سے

 

ہزاروں معجزے ہوتے ہیں ظاہر حضرتِ دل سے

کہ یوسفؑ مصر میں کھینچ کر گئے ہیں بیس منزل سے

 

جلائے جاؤ پروانوں کی صورت اہلِ الفت کو

سبق تم نے یہ اچھا لے لیا ہے شمعِ محفل سے

 

یہی معراجِ مجنوں تھی کہ مجنوں ہو گیا ہے بے خود

برنگِ دشتِ ایمن برق چمکی چاکِ محمل سے

 

گواہِ وحدت و کثرت فقط چشمِ بصیرت ہے

نظر آتا ہے جو عالم میں ہے اک آنکھ کے تِل سے

 

نہ دل ملنے کے کیا معنی کوئی میں جھوٹ کہتا ہوں

حقیقت اپنے دل کی پوچھ لو تم سب مرے دل سے

 

جزائے خیر سے مایوس ہو جانے کے کیا معنی

دعائے خیر مل جائے تمہیں جب قلبِ سائلؔ سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ