اردوئے معلیٰ

کیا خبر اب عشقِ نبی کونسی منزل میں ہے

کیا خبر اب عشقِ نبی کونسی منزل میں ہے

دل ہے طیبہ میں مرا، طیبہ کی خواہش دل میں ہے

 

ذکر کی پیہم بلندی وعدۂ رب وفا

نعت کی فرمانروائی شہرِ مستقبل میں ہے

 

بزمِ عالم میں چراغاں اس کا فیضِ عام ہے

روشنی ساری کی ساری اس مہِ کامل میں ہے

 

تلخئ حالات کا شکوہ نہیں کرنا مجھے

جانِ رحمت جانتے ہیں امتی مشکل لیں ہے

 

صاحبِ معراج کی مدحت ہے معراجِ سخن

آج پھر یہ نعت گو معراج کی منزل میں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ