اردوئے معلیٰ

Search

 

کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں

اپنے سرکار کے دربار کو کیوں کر دیکھیں

 

تابِ نظارہ تو ہو ، یار کو کیوں کر دیکھیں

آنکھیں ملتی نہیں دیدار کو کیوں کر دیکھیں

 

دلِ مردہ کو ترے کوچہ میں کیوں کر لے جائیں

اثرِ جلوۂ رفتار کو کیوں کر دیکھیں

 

جن کی نظروں میں ہے صحرائے مدینہ بلبل

آنکھ اُٹھا کر ترے گلزار کو کیوں کر دیکھیں

 

عوضِ عفو گنہ بکتے ہیں اِک مجمع ہے

ہائے ہم اپنے خریدار کو کیوں کر دیکھیں

 

ہم گنہگار کہاں اور کہاں رویتِ عرش

سر اُٹھا کر تری دیوار کو کیوں کر دیکھیں

 

اور سرکار بنے ہیں تو انھیں کے دَر سے

ہم گدا اور کی سرکار کو کیوں کر دیکھیں

 

دستِ صیاد سے آہو کو چھڑائیں جو کریم

دامِ غم میں وہ گرفتار کو کیوں کر دیکھیں

 

تابِ دیدار کا دعویٰ ہے جنھیں سامنے آئیں

دیکھتے ہیں ترے رُخسار کو کیوں کر دیکھیں

 

دیکھیے کوچۂ محبوب میں کیوں کر پہنچیں

دیکھیے جلوۂ دیدار کو کیوں کر دیکھیں

 

اہل کارانِ سقر اور اِرادہ سے حسنؔ

ناز پروردۂ سرکار کو کیوں کر دیکھیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ