اردوئے معلیٰ

کیفِ یادِ حبیب زیادہ ہے

نعت لکھنے کا آج ارادہ ہے

 

قابلِ فخر شاہ زادہ ہے

از براہیمی خانوادہ ہے

 

نیک خو ہے مزاج سادہ ہے

شان و منصب میں سب سے زیادہ ہے

 

ہر سخن دلنشیں ہے سادہ ہے

وحی رب سے کہ استفادہ ہے

 

تنِ اطہر پہ جو لبادہ ہے

کس قدر ستر پوش و سادہ ہے

 

معتدل اس کی ہے مئے وحدت

کیف اس کا نہ کم نہ زیادہ ہے

 

ہے وہ محبوبِ حق سبحان اللہ

قربِ حق اس کا سب سے زیادہ ہے

 

درِ اقدس پہ سر گروہِ مَلَک

مثلِ دربان ایستادہ ہے

 

جو کہا اس نے اس کو کر گزرا

کس قدر راسخ الارادہ ہے

 

ہے نشاط آور و سرور آگیں

خمِ وحدت کا اس کا بادہ ہے

 

زندگی کے ہزار رستے ہیں

جادۂ حق اس کا جادہ ہے

 

جو بھی چاہے ہو فیضیاب اس سے

اس کا خوانِ کرم کشادہ ہے

 

سربکف رہنا فی سبیل اللہ

مردِ میداں وہ سب سے زیادہ ہے

 

علم و حکمت جہاں نظرؔ آئے

آپ کے علم کا افادہ ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات