اردوئے معلیٰ

گئے جی سے چھوٹے بتوں کی جفا سے

گئے جی سے چھوٹے بتوں کی جفا سے

یہی بات ہم چاہتے تھے خدا سے

 

وہ اپنی ہی خوبی پہ رہتا ہے نازاں

مرو یا جیو کوئی اس کی بلا سے

 

کوئی ہم سے کھلتے ہیں بند اس قبا کے

یہ عقدے کھلیں گے کسو کی دعا سے

 

پشیمان توبہ سے ہوگا عدم میں

کہ غافل چلا شیخ لطف ہوا سے

 

نہ رکھی مری خاک بھی اس گلی میں

کدورت مجھے ہے نہایت صبا سے

 

جگر سوئی مژگاں کھنچا جائے ہے کچھ

مگر دیدۂ تر ہیں لوہو کے پیاسے

 

اگر چشم ہے تو وہی عین حق ہے

تعصب تجھے ہے عجب ماسوا سے

 

طبیب سبک عقل ہرگز نہ سمجھا

ہوا درد عشق آہ دونا دوا سے

 

ٹک اے مدعی چشم انصاف وا کر

کہ بیٹھے ہیں یہ قافیے کس ادا سے

 

نہ شکوہ شکایت نہ حرف و حکایت

کہو میرؔ جی آج کیوں ہو خفا سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ