’’گرفتارِ بلا حاضر ہوئے ہیں ٹوٹے دل لے کر‘‘

 

’’ گرفتارِ بلا حاضر ہوئے ہیں ٹوٹے دل لے کر ‘‘

کرم فرمائیے شاہِ مدینہ ہم گداؤں پر

مداوائے غمِ دوراں شہِ خیر الورا تم ہو

’’ کہ ہر بے کل کی کل ٹوٹے دلوں کا آسرا تم ہو ‘‘

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رات بیدار ہے کونین کی آنکھیں روشن
بدکار ہیں عاصی ہیں زیاں کار ہیں ہم
شعورِ نعت دیں جذبات دے دیں
آپؐ ہیں صادق و امیں آقاؐ
بشر کوئی نہیں خیر البشرؐ سا
یہ رُتبہ ہے نبیؐ کے آستاں کا
درِ سرکارؐ پر جھُکتے سبھی شاہ و گدا ہیں
بزم جب ان کی ہم سجاتے ہیں
’’خاک ہو جائیں عدوٗ جل کر مگر ہم تو رضاؔ ‘‘
’’قبر کا ہر ذرّہ اک خورشیدِ تاباں ہو ابھی ‘‘

اشتہارات