گرچہ سرورِ دیں کی، ساری آل خوشبو ہے

گرچہ سرورِ دیں کی، ساری آل خوشبو ہے

گل بدن علی اصغر، لازوال خوشبو ہے

 

اس کلی کی نکہت کے، رنگ و بو ہیں شیدائی

کربلا کے صحرا میں، بے مثال خوشبو ہے

 

کون اس کا ثانی ہے،چار دانگِ عالم میں

روپ رنگ اجلا ہے، بال بال خوشبو ہے

 

کم سنی میں آیا ہے، جو یزید کی زد میں

گلشنِ حسینی کا، نو نہال خوشبو ہے

 

جانبِ جناں اس کا، یہ سفر بتاتا ہے

بوستانِ جنت کا، ہر سوال خوشبو ہے

 

خلد کے گلستاں میں، اس گلابِ کمسن کا

پات پات چرچا ہے، ڈال ڈال خوشبو ہے

 

گرچہ روپ خوشبو کا، کوئی بھی نہیں ہوتا

یہ بدن ہے خوشبو کا، خوش جمال خوشبو ہے

 

منقبت بحضور سیدنا علی اصغر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اصحابِ نبیؐ کی باتیں ہیں گلزارِ عقیدت کھل اُٹھا
حسینؑ! تیرے لہو سے ہے تربتر صحرا
ہوا ہوں دادِ ستم کو میں حاضرِ دربار
وہ سامنے غنیم کی فوجیں ہیں دجلہ پار
حضرت حسینؓ کتنے ہیں مظلوم! آج تک
ملا نصیب سے مجھ کو جو غم حسین کا ہے
قبا گلوں کی ہے پہنے ترا خیال حسین
دیارِ نور میں جناں کا باغ رکھ دیا گیا
لپٹ کر سنگِ در سے خوب رو لوں
شاہِ مدینہ! طلعت اختر تورے پیّاں میں

اشتہارات