گر تمہیں شک ہے تو پڑھ لو مرے اشعار، میاں

!گر تمہیں شک ہے تو پڑھ لو مرے اشعار، میاں

!آگ سے عطر بناتا ہوں میں ، عطّار میاں

 

تمہیں لاکھوں کی طلب اور مرے بٹوے میں

!گر بہت بھی ہوئے ، ہوں گے یہی دو چار، میاں

 

باغ سے تم نے چُرائے ہی نہیں آم کبھی

!کسیے سمجھو گے تُم اُس جسم کے اَسرار میاں

 

میں کسی تیسرے لہجے میں تمہیں دوں گا جواب

!میری جانب سے ہے اقرار نہ انکار ، میاں

 

جن سے پہنچی ہے بہت خلقِ خدا کو راحت

کیوں بھلا جائیں گے دوزخ میں وہ کُفار ، میاں؟

 

رسیاں بن کے پڑے رہتے ہیں ڈسنے کے لیے

دھیان رکھ ، سانپ بھی ہوتے ہیں اداکار ، میاں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ