اردوئے معلیٰ

گھر بسانے کی تمنا کوچۂ قاتل میں ہے

گھر بسانے کی تمنا کوچۂ قاتل میں ہے

زندگی مصروف اک تحصیلِ لاحاصل میں ہے

 

شورِ طوفاں قلقلِ مینا ہے پیاسوں کے لئے

اک پیالے کی طرح ساگر کفِ ساحل میں ہے

 

چاک کو دیتے ہیں گردش دیکھ کر گِل کا خمیر

اک پرانی رسم ہم کوزہ گرانِ گِل میں ہے

 

مرکزِ دل سے گریزاں ہے محیطِ روزگار

دائرہ کیسے بنے، پرکارِ جاں مشکل میں ہے

 

دے گیا ہے ڈوبتا سورج اُجالے کی نوید

ایک تازہ دن کہیں تقویم کی منزل میں ہے

 

عیب اُنہی کی آنکھ میں ہو عین ممکن ہے ظہیرؔ

جو سمجھتے ہیں کہ خامی جوہرِ کامل میں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ