ہر جگہ اہل ایمان غالب رہے

ہر جگہ اہل ایمان غالب رہے

فتح جاں اور اس کے یہ قالب رہے

 

وار پہ وار کرتا رہا غم مگر

ان کے فیض و کرم میری جانب رہے

 

شرعِ کی روشنی میں جو چلتا رہا

اس کے اقدام سارے مناسب رہے

 

جو عمل مصطفے سے نہ چھوٹے کبھی

تا قیامت وہ امت پہ واجب رہے

 

لگ گۓ چار چاند اس کی تقدیر میں

ایک لمحہ وہ جس سے مخاطب رہے

 

شکر رب کا میسر ہوا ایسا ذوق

ان کی نعتوں میں افکار راغب رہے

 

حشر میں نیکیاں ان کی چھن جائیں گی

غیر کے مال پر جو بھی غاصب رہے

 

کس قدر تھا بلندی پہ ان کا نصیب

وہ صحابہ جو قرآں کے کاتب رہے

 

ان کے لب سے جو الفاظ مس ہو گۓ

قدسیؔ پر مغز ان کے مطالب رہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ