اردوئے معلیٰ

ہر حسن لازوال ہے شہرِ رسول میں

ہر حسن لازوال ہے شہرِ رسول میں

ذرہ بھی با کمال ہے شہرِ رسول میں

 

محتاج ہو ، غنی ہو ، گدا ہو کہ تاجور

ہر شخص مالا مال ہے شہرِ رسول میں

 

صدیق کے لقب سے نوازا گیا جسے

وہ صاحبِ کمال ہے شہرِ رسول میں

 

دیوار ، بام ، راستے ، گلیاں ، ہوا ، فضا

ہر چیز بے مثال ہے شہرِ رسول میں

 

ہر سمت خیمہ زن ہیں مسرت کے قافلے

مایوسیت محال ہے شہرِ رسول میں

 

کتنا بھی گہرا گھاؤ ہو کیسا بھی زخم ہو

امیدِ اندمال ہے شہرِ رسول میں

 

بٹتے ہیں رحمتوں کے خزانے گلی گلی

یہ حال بے زوال ہے شہرِ رسول میں

 

باغِ کرم ہے بارشِ انوار اور میں

حاضر مرا خیال ہے شہرِ رسول میں

 

جس کو بھی دیکھتا ہوں کھِلا ہے وہ پھول سا

اک غم ہے جو نڈھال ہے شہر رسول میں

 

ممکن نہیں خزاں کے قدم پڑ سکیں وہاں

سر سبز ڈال ڈال ہے شہرِ رسول میں

 

عاجز ہے جس کے ذکر سے انسان کا کلام

اے نورؔ وہ جمال ہے شہر رسول میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ