اردوئے معلیٰ

ہزاروں ہوں درود اُن پر، ہزاروں ہوں سلام اُن پر

ہزاروں ہوں درود اُن پر، ہزاروں ہوں سلام اُن پر

وہ ہیں سلطانِ بحر و بر، ہزاروں ہوں سلام اُن پر

 

اشارے سے قمر توڑیں، بُلائیں تو شجر دوڑیں

گواہی جن کی دیں پتھر، ہزاروں ہوں سلام ان پر

 

مدینے کے وہ بام و در، پکڑ کر اور جھکا کر سر

کہیں ہم سب یہی مل کر، ہزاروں ہوں سلام ان پر

 

جو رحمت کی رِدائیں دیں، جو دشمن کو دُعائیں دیں

عطا و جود کے پیکر، ہزاروں ہوں سلام ان پر

 

کوئی بے گھر بھی آجائے، کوئی بے زر بھی آ جائے

وہ لوٹاتے ہیں بھر بھرکر، ہزاروں ہوں سلام ان پر

 

مِرا آصف یہ ہے ایماں، ہر اک دکھ کے ہیں وہ درماں

وہی دکھیوں کے ہیں یاور، ہزاروں ہوں سلام ان پر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ