اردوئے معلیٰ

Search

ہم زمانے میں پھرے ، دل کو حرم میں رکھا

حرمِ پاک کو اِس دیدۂ نم میں رکھا

 

جو بھی لکھا ہے وہ انوار صفت لکھا ہے

اسمِ احمد نے یہ اعجاز قلم میں رکھا

 

دل کو دُنیا کے جھمیلوں میں اُلجھنے نہ دِیا

اِس کو بس جستجوئے باغِ ارم میں رکھا

 

دوش پرلے کے صبا مُجھ کو مدینے پہنچی

جذبۂ شوق کوہر ایک قدم میں رکھا

 

خاکِ طیبہ کو نگاہوں سے نہ اوجھل جانا

اِس تصّور کو عرب اور عجم میں رکھا

 

روزِ محشر بھی عنایت کی نظر ہو ، جیسے

عمر بھر سایۂ دامانِ کرم میں رکھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ