اردوئے معلیٰ

Search

ہم نے تقصیر کی عادت کر لی

آپ اپنے پہ قیامت کر لی

 

میں چلا ہی تھا مجھے روک لیا

مرے اللہ نے رحمت کر لی

 

ذکر شہ سن کے ہوئے بزم میں محو

ہم نے جلوت میں بھی خلوت کر لی

 

نارِ دوزخ سے بچایا مجھ کو

مرے پیارے بڑی رحمت کر لی

 

بال بیکا نہ ہوا پھر اُس کا

آپ نے جس کی حمایت کر لی

 

رکھ دیا سر قدمِ جاناں پر

اپنے بچنے کی یہ صورت کر لی

 

نعمتیں ہم کو کھلائیں اور آپ

جو کی روٹی پہ قناعت کر لی

 

اُس سے فردوس کی صورت پوچھو

جس نے طیبہ کی زیارت کر لی

 

شانِ رحمت کے تصدق جاؤں

مجھ سے عاصی کی حمایت کر لی

 

فاقہ مستوں کو شکم سیر کیا

آپ فاقہ پہ قناعت کر لی

 

اے حسنؔ کام کا کچھ کام کیا

یا یونہی ختم پہ رُخصت کر لی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ