ہم کا دِکھائی دیت ہے ایسی رُوپ کی اگیا ساجن ماں

ہم کا دِکھائی دیت ہے ایسی رُوپ کی اگیا ساجن ماں

جھونس رہا ہے تن من ہمرا نِیر بھر آئے اَکھین ماں

 

دُور بھئے ہیں جب سے ساجن آگ لگی ہے تن من ماں

پُورب پچھم اُتر دکھن ڈھونڈ پھری مَیں بن بن ماں

 

یاد ستاوے پردیسی کی دل لوٹت انگاروں پر

ساتھ پیا ہمرا جب ناہیں اگیا بارو گُلشن ماں

 

درشن کی پیاسی ہے نجریا ترسِن اکھیاں دیکھن کا

ہم سے رُوٹھے منھ کو چُھپائے بیٹھے ہو کیوں چلمن ماں

 

اے تہاری آس پہ ساجن سگرے بندھن توڑے ہیں

اپنا کرکے راکھیو موہے آن پڑی ہوں چرنن ماں

 

چَھٹ جائیں یہ غم کے اندھیرے گھٹ جائیں یہ درد گھنے

چاند سا مکھڑا لے کر تم جو آنکلو مورے آنگن ماں

 

جیون آگ بگولا ہِردے آس نہ اپنے پاس کوئی

تیرے پریت کی مایا ہے کچھ ، اور نہیں مجھ نِردھن ماں

 

ڈال گلے میں پیت کی مالا خود ہے نصیر اب متوالا

چتون میں‌جا دو کاجتن ہے رس کے بھرے تورے نینن ماں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ