ہوتا ہے بازگشت میں جیسے صدا کے ساتھ

ہوتا ہے بازگشت میں جیسے صدا کے ساتھ

میرے قدم قدم پہ سزا تھی سزا کے ساتھ

 

اِک طاق پر چراغ جلانے کی چاہ میں

کرنی پڑی ہے دوستی ہم کو ہوا کے ساتھ

 

سوتا ہوں روز رات کو آغوشِ آہ میں

ہر صبح جاگتا ہوں کسی بدعا کے ساتھ

 

کیسے کرو گے اُس کی وفا کا یقین تم

کوئی جو چل پڑا ہے کسی کو بھُلا کے ساتھ

 

شکوہ نہیں ہے مرتضیٰ تقدیر سے ہمیں

مانگا تھا اُس سے اُسکو ، اُسی کی رضا کے ساتھ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کھڑے ہیں مجھکو خریدار دیکھنے کے لیے
ماہِ کامل نہ سہی پاس ، ستارہ کوئی ہے
کسی بھی لاٹری سے اور خزانوں سے نہیں ہوتی
خسارہ بھی اگر ہو منفعت کہنا
جن پر تری نگاہ پڑی وہ سنور گئے
مشکلوں میں پکارا کرم ہی کرم
گہری نیند (سیلاب کے موقع پر لکھی گئی ایک نظم)
یہ جو مجھ پر نکھار ہے سائیں
ھجر میں ھے یہی تسکین مُجھے
وہ روٹھی روٹھی یہ کہہ رہی تھی قریب آؤ مجھے مناؤ