ہوتا ہے بازگشت میں جیسے صدا کے ساتھ

ہوتا ہے بازگشت میں جیسے صدا کے ساتھ

میرے قدم قدم پہ سزا تھی سزا کے ساتھ

 

اِک طاق پر چراغ جلانے کی چاہ میں

کرنی پڑی ہے دوستی ہم کو ہوا کے ساتھ

 

سوتا ہوں روز رات کو آغوشِ آہ میں

ہر صبح جاگتا ہوں کسی بدعا کے ساتھ

 

کیسے کرو گے اُس کی وفا کا یقین تم

کوئی جو چل پڑا ہے کسی کو بھُلا کے ساتھ

 

شکوہ نہیں ہے مرتضیٰ تقدیر سے ہمیں

مانگا تھا اُس سے اُسکو ، اُسی کی رضا کے ساتھ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ