ہے فلسفوں کی گرد نگاہوں کے سامنے

ہے فلسفوں کی گرد نگاہوں کے سامنے

ایسے میں خاک، سوچ کو رستہ دکھائی دے

دیدہ وروں کے شہر میں ہر ایک پستہ قد

پنجوں کے بل کھڑا ہے، کہ اونچا دکھائی دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ