ہے فلسفوں کی گرد نگاہوں کے سامنے

ہے فلسفوں کی گرد نگاہوں کے سامنے

ایسے میں خاک، سوچ کو رستہ دکھائی دے

دیدہ وروں کے شہر میں ہر ایک پستہ قد

پنجوں کے بل کھڑا ہے، کہ اونچا دکھائی دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نبیؐ کے در پر کھڑے ہوئے ہیں درود پڑھتے ہی جا رہے ہیں
خدا کا شُکر کرتا ہوں، خدا پر میرا ایماں ہے
خدا اعلیٰ و ارفع ہے، خدا عظمت نشاں ہے
حرم کے سائے میں سارے مسلماں رُوبرو بیٹھیں
خدا کے حمد گو جنگل بیاباں
جو احکامِ خدا سے بے خبر ہے
خداوندِ جمیعِ مُرسلاں تُو
خدا کے نُور سے روشن زماں ہیں
خدا کا نُور ہر سُو ضو فشاں ہے
خدا سے دُور کب تک رہ سکو گے

اشتہارات