ہے پیار کا کھیل مصلحت اور خیالِ سود و زیاں سے بالا

ہے پیار کا کھیل مصلحت اور خیالِ سود و زیاں سے بالا

لگا ہی لی ہے جو دل کی بازی، تو جیت کیا اور ہار کیا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

قہقہوں سے لدے پھندے ھوئے شخص
پھول بھی نقلی دیے اور عطر بھی جُھوٹا دیا
یہ زرد شال میں لپٹی ہوئی حسیں لڑکی
نہ آئی بات تک بھی منہ پہ رعب حسن جاناں سے
الجھتی جاتی ہیں گرہیں ادھورے لفظوں کی
یہ بھی ممکن ہے سنبھلتا نہ ہو دستار کا بوجھ
زندگی جتنی بھی دکھی ہو عدم
شکریہ پھر بھی اے مرے خالق
کیا اس کو میں لکھ کر بھیجوں آؤ باتیں کرتے ہیں
تو ہے بہار تو میرا دامن ہو کیوں خالی

اشتہارات