اردوئے معلیٰ

یارب کبھی تو خواب میں وہ در دکھائی دے

بے گھر کو جیسے اپنا کوئی گھر دکھائی دے

 

تاثیر اسمِ پاک عطا کیجیے مجھے

میں نام لوں تو چشم مجھے تر دکھائی دے

 

تشنہ لبی جو حشر میں ہو تو مرے کریم

جیسے پڑھوں درود تو کوثر دکھائی دے

 

کرتا ہوں عرش تیری میں سنت ادا ضرور

نعلین کی شبیہ کہیں پر دکھائی دے

 

زائر ذرا سی خاکِ مدینہ اگر ملے

سرمہ بناؤں ، آنکھ کو بہتر دکھائی دے

 

روشن نگاہ ایسی ہوئی ہے درود سے

مجھ کو مدینہ قلب کے اندر دکھائی دے

 

پوچھوں مزہ حضور کے تلووں کے لمس کا

جبریل خواب میں ہی عطا گر دکھائی دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات