یارب کبھی تو خواب میں وہ در دکھائی دے

یارب کبھی تو خواب میں وہ در دکھائی دے

بے گھر کو جیسے اپنا کوئی گھر دکھائی دے

 

تاثیر اسمِ پاک عطا کیجیے مجھے

میں نام لوں تو چشم مجھے تر دکھائی دے

 

تشنہ لبی جو حشر میں ہو تو مرے کریم

جیسے پڑھوں درود تو کوثر دکھائی دے

 

کرتا ہوں عرش تیری میں سنت ادا ضرور

نعلین کی شبیہ کہیں پر دکھائی دے

 

زائر ذرا سی خاکِ مدینہ اگر ملے

سرمہ بناؤں ، آنکھ کو بہتر دکھائی دے

 

روشن نگاہ ایسی ہوئی ہے درود سے

مجھ کو مدینہ قلب کے اندر دکھائی دے

 

پوچھوں مزہ حضورؐ کے تلووں کے لمس کا

جبریل خواب میں ہی عطا گر دکھائی دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نعت تب ہوتی ہے جب دل پہ ہو تنزیل کوئی
جس جگہ بے بال و پر جبریل سا شہپر ہوا​
لیے رخ پہ نوری نقاب آگئے ہیں
مہر ھدی ہے چہرہ گلگوں حضورؐ کا
بدرِ حرا طلوع ہوا ظلمتوں کے بیچ
حَیَّ علٰی خَیر العَمَل
اے کاش کبھی سارے جھمیلوں سے نمٹ کے
تجھے مِل گئی اِک خدائی حلیمہ
لمعۂ عشقِ رسول ، عام ہے اَرزاں نہیں
نہیں شعر و سخن میں گو مجھے دعوائے مشاقی

اشتہارات