اردوئے معلیٰ

Search

یاقوت لب کو آنکھ کو تارہ نہ کہہ سکیں

ایسا نہ ہو کہ شعر دوبارہ نہ کہہ سکیں

 

وہ چھب کہ نقرئی کبھی زریں دکھائی دے

شعلہ نہ کہہ سکیں جسے پارہ نہ کہہ سکیں

 

سولی کے آسرے پہ ٹکی ہے شکستگی

خوش فہمیاں بھی تم کو سہارہ نہ کہہ سکیں

 

ہم کشتگان موج بلا جاں بلب سہی

ان دلدلوں کو ہم بھی کنارہ نہ کہہ سکیں

 

پس ماندگان سے بھی تقاضہ ہے ہوش کا ؟

یعنی کہ ہم کو لوگ تمہارا نہ کہہ سکیں

 

تیری کمی سے اور سوا ہے تری کمی

تجھ کو دکھا سکیں یہ خسارہ نہ کہہ سکیں

 

اب تاب دید کی نہ سکت ہے بیان کی

ہم روئیداد مرگ نظارہ نہ کہہ سکیں

 

بستی ہی جل رہی ہے یقیناً کہں پرے

ہم اس قدر دھوئیں کو اشارہ نہ کہہ سکیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ