اردوئے معلیٰ

یا رب، چمنِ نظم کو گلزارِ ارم کر

اے ابرِ کرم، خشک زراعت پہ کرم کر

تو فیض کا مبدا ہے، توّجہ کوئی دم کر

گم نام کو اعجاز بیانوں میں رقم کر

 

جب تک یہ چمک مہر کے پرتو سے نہ جائے

اقلیمِ سخن میرے قلمرو سے نہ جائے

 

ہر باغ میں چشمے ہیں ترے فیض کے جاری

بلبل کی زباں پر ہے تری شکر گزاری

ہر نخل برو مند ہے یا حضرتِ باری

پھل ہم کو بھی مل جائے ریاضت کا ہماری

 

وہ گل ہوں عنایت چمنِ طبعِ نِکو کو

بلبل نے بھی سُونگھا نہ ہو جن پھولوں کی بو کو

 

غوّاصِ طبیعت کو عطا کر وہ لآلی

ہو جن کی جگہ تاجِ سرِ عرش پہ خالی

اک ایک لڑی نظمِ ثریّا سے ہو عالی

عالم کی نگاہوں سے گرے قطبِ شمالی

 

سب ہوں دُرِ یکتا نہ علاقہ ہو کسی سے

نذر ان کی یہ ہوں گے جنھیں رشتہ ہے نبی سے

 

بھر دے دُرِ مقصود سے اُس دُرجِ دہاں کو

دریائے معانی سے بڑھا طبعِ رواں کو

آگاہ کر اندازِ تکلّم سے زباں کو

عاشق ہو فصاحت بھی، وہ دے حُسن، بیاں کو

 

تحسیں کا سماوات سے غُل تا بہ سَمک ہو

ہر گوش بنے کانِ ملاحت، وہ نمَک ہو

 

تعریف میں چشمے کو سمندر سے ملا دُوں

قطرے کو جو دُوں آب تو گوہر سے ملا دوں

ذرّے کی چمک مہرِ منوّر سے ملا دوں

خاروں کو نزاکت میں گلِ تر سے ملا دوں

 

گلدستۂ معنی کو نئے ڈھنگ سے باندھوں

اِک پھُول کا مضموں ہو تو سَو رنگ سے باندھوں

 

گر بزم کی جانب ہو توّجہ دمِ تحریر

کھنچ جائے ابھی گلشنِ فردوس کی تصویر

دیکھے نہ کبھی صحبتِ انجم فلکِ پیر

ہو جائے ہوا بزمِ سلیماں کی بھی توقیر

 

یوں تختِ حسینانِ معانی اُتر آئے

ہر چشم کو پریوں کا اکھاڑا نظر آئے

 

ساقی کے کرم سے ہو وہ دَور اور وہ چلیں جام

جس میں عوضِ نشہ ہو کیفیتِ انجام

ہر مست فراموش کرے گردشِ ایّام

صوفی کی زباں بھی نہ رہے فیض سے ناکام

 

ہاں بادہ کشو، پُوچھ لو میخانہ نشیں سے

کوثر کی یہ موج آ گئی ہے خُلدِ بریں سے

 

وہ فرش ہو اس بزم ارم رشک میں نایاب

ہو جس کی سفیدی سے خجل چادرِ مہتاب

دل عرش کا لوٹے کہ یہ راحت کا ہے اسباب

مخمل کو بھی حسرت ہو کہ میں اس پہ کروں خواب

 

آئینوں سے ہو چار طرف نور کا جلوا

دکھلائے ہر اک شمع رُخِ حُور کا جلوا

 

آؤں طرفِ رزم ابھی چھوڑ کے جب بزم

خیبر کی خبر لائے مری طبعِ اولوالعزم

قطعِ سرِ اعدا کا ارادہ ہو جو بالجزم

دکھلائے یہیں سب کو زباں معرکۂ رزم

 

جل جائے عدو، آگ بھڑکتی نظر آئے

تلوار پہ تلوار چمکتی نظر آئے

 

مصرع ہو صف آرا، صفتِ لشکرِ جرّار

الفاظ کی تیزی کو نہ پہنچے کوئی تلوار

نقطے ہوں جو ڈھالیں تو الف خنجرِ خونخوار

مد آگے بڑھیں برچھیوں کو تول کے اک بار

 

غُل ہو "​کبھی یوں فوج کو لڑتے نہیں دیکھا

مقتل میں رَن ایسا کبھی پڑتے نہیں دیکھا”​

 

ہو ایک زباں ماہ سے تا مسکنِ ماہی

عالم کو دکھا دے برشِ سیفِ الٰہی

جرأت کا دھنی تُو ہے، یہ چلائیں سپاہی

لاریب، ترے نام پہ ہے سِکّۂ شاہی

 

ہر دم یہ اشارہ ہو، دوات اور قَلم کا

تو مالک و مختار ہے اِس طبل و عَلم کا

 

تائید کا ہنگام ہے یا حیدرِ صفدر

امداد ترا کام ہے، یا حیدرِ صفدر

تُو صاحبِ اکرام ہے، یا حیدرِ صفدر

تیرا ہی کرم عام ہے، یا حیدرِ صفدر

 

تنہا ترے اقبال سے شمشیر بہ کف ہوں

سب ایک طرف جمع ہیں، میں ایک طرف ہوں

 

ناقدریِ عالم کی شکایت نہیں مولا

کچھ دفترِ باطل کی حقیقت نہیں مولا

باہم گُل و بلبل میں محبت نہیں مولا

میں کیا ہوں، کسی روح کو راحت نہیں مولا

 

عالم ہے مکدّر کوئی دل صاف نہیں ہے

اس عہد میں سب کچھ ہے، پر انصاف نہیں ہے

 

نیک و بدِ عالم میں تامّل نہیں کرتے

عارف کبھی اتنا تجاہل نہیں کرتے

خاروں کے لیے رخ طرفِ گل نہیں کرتے

تعریف خوش الحانیِ بلبل نہیں کرتے

 

خاموش ہیں، گو شیشۂ دل چُور ہوئے ہیں

اشکوں کے ٹپک پڑنے سے مجبور ہوئے ہیں

 

الماس سے بہتر یہ سمجھتے ہیں خذف کو

دُر کو تو گھٹاتے ہیں، بڑھاتے ہیں صدف کو

اندھیر یہ ہے، چاند بتاتے ہیں کلف کو

کھو دیتے ہیں شیشے کے لیے دُرِ نجف کو

 

ضائع ہیں دُر و لعل بدخشان و عدن کے

مٹّی میں ملاتے ہیں جواہر کو سخن کے

 

ہے لعل و گہر سے یہ دہن کانِ جواہر

ہنگامِ سخن کھلتی ہے دوکانِ جواہر

ہیں بند مرصّع، تو ورق خوانِ جواہر

دیکھے انھیں، ہاں کوئی ہے خواہانِ جواہر

 

بینائے رقوماتِ ہنر چاہیے اس کو

سودا ہے جواہر کا، نظر چاہیے اس کو

 

کیا ہو گئے وہ جوہریانِ سخن اک بار

ہر وقت جو اس جنس کے رہتے تھے طلب گار

اب ہے کوئی طالب، نہ شناسا، نہ خریدار

ہے کون دکھائیں کسے یہ گوہرِ شہوار

 

کس وقت یہاں چھوڑ کے ملکِ عدم آئے

جب اُٹھ گئے بازار سے گاہک تو ہم آئے

 

خواہاں نہیں یاقوتِ سخن کا کوئی گو آج

ہے آپ کی سرکار تو یا صاحبِ معراج

اے باعثِ ایجادِ جہاں، خلق کے سرتاج

ہو جائے گا دم بھر میں غنی، بندۂ محتاج

 

اُمید اسی گھر کی، وسیلہ اسی گھر کا

دولت یہی میری، یہی توشہ ہے سفر کا

 

میں کیا ہوں، مری طبع ہے کیا، اے شہِ ذی شاں

حسّان و فَرَزدَق ہیں یہاں عاجز و حیراں

شرمندہ زمانے سے گئے دعبل و سحباں

قاصر ہیں سخن فہم و سخن سنج و سخن داں

 

کیا مدح کفِ خاک سے ہو نورِ خدا کی

لکنت یہیں کرتی ہیں زبانیں فُصَحا کی

 

لا یعلم و لا علم کی کیا سحر بیانی

حضرت پہ ہویدا ہے مری ہیچ مدانی

نے ذہن میں جُودت، نہ طبیعت میں روانی

گویا ہوں فقط، ہے یہ تری فیض رسانی

 

میں کیا ہوں، فرشتوں کی طلاقت ہے تو کیا ہے

وہ خاص یہ بندے ہیں کہ مدّاح خدا ہے

 

تھا جوش کچھ ایسا ہی جو دعویٰ کیا میں نے

خود سربگریباں ہوں کہ یہ کیا کیا میں نے

اک قطرۂ ناچیز کو دریا کیا میں نے

تقصیر بحل کیجئے، بے جا کیا میں نے

 

ہاں سچ ہے کہ اتنی بھی تعلّی نہ روا تھی

مولا یہ کلیجے کے پھپھولوں کی دوا تھی

 

مجرم ہوں، کبھی ایسی خطا کی نہیں میں نے

بھولے سے بھی آپ اپنی ثنا کی نہیں میں نے

دل سے کبھی مدحِ اُمرا کی نہیں میں نے

تقلیدِ کلامِ جُہلا کی نہیں میں نے

 

نازاں ہوں محبت پہ امامِ اَزَلی کی

ساری یہ تعلّی ہے حمایت پہ علی کی

 

ہر چند زباں کیا مری، اور کیا مری تقریر

دن رات وظیفہ ہے ثنا خوانیِ شبیر

منظور ہے اک باب میں دو فصل کی تحریر

مولا کی مدد کا متمنّی ہے یہ دلگیر

 

ہر فصل نئے رنگ سے کاغذ پہ رقم ہو

اک بزم ہو شادی کی تو اک صحبتِ غم ہو

 

شعباں کی ہے تاریخِ سوم روزِ ولادت

اور ہے دہمِ ماہِ عزا یومِ شہادت

دونوں میں بہرحال ہے تحصیلِ سعادت

وہ بھی عملِ خیر ہے، یہ بھی ہے عبادت

 

مدّاح ہوں، کیا کچھ نہیں اس گھر سے ملا ہے

کوثر ہے صِلہ اِس کا، بہشت اُس کا صلہ ہے

 

مقبول ہوئی عرض، گنہ عفو ہوئے سب

امید بر آئی، مرا حاصل ہوا مطلب

شامل ہوا افضالِ محمّد، کرَمِ رب

ہوتے ہیں علم فوجِ مضامیں کے نشاں اب

 

پُشتی پہ ہیں سب رُکنِ رکیں دینِ متیں کے

ڈنکے سے ہلا دیتا ہوں طبقوں کو زمیں کے

 

نازاں ہوں عنایت پہ شہنشاہِ زمن کی

بخشی ہے رضا جائزۂ فوج سخن کی

چہرے کی بحالی سے قبا چست ہے تن کی

لو برطَرَفی پڑ گئی مضمونِ کہن کی

 

اِک فرد پُرانی نہیں دفتر میں ہمارے

بھرتی ہے نئی فوج کی لشکر میں ہمارے

 

مطلعِ دوم

 

ہاں اے فلکِ پیر، نئے سر سے جواں ہو

اے ماہِ شبِ چار دہم، نور فشاں ہو

اے ظلمتِ غم، دیدۂ عالم سے نہاں ہو

اے روشنیِ صبحِ شبِ عید، عیاں ہو

 

شادی ہے ولادت کی ید اللہ کے گھر میں

خورشید اترتا ہے شہنشاہ کے گھر میں

 

اے شمس و قمر، اور قمر ہوتا ہے پیدا

نخلِ چمنِ دیں کا ثمر ہوتا ہے پیدا

مخدومۂ عالم کا پسر ہوتا ہے پیدا

جو عرش کی ضَو ہے وہ گہر ہوتا ہے پیدا

 

ہر جسم میں جاں آتی ہے مذکور سے جس کے

نو نورِ خدا ہوں گے عیاں نور سے جس کے

 

اے کعبۂ ایماں، تری حرمت کے دن آئے

اے رکنِ یمانی تری شوکت کے دن آئے

اے بیتِ مقدّس، تری عزّت کے دن آئے

اے چشمۂ زمزم، تری چاہت کے دن آئے

 

اے سنگِ حرم، جلوہ نمائی ہوئی تجھ میں

اے کوہِ صفا، اور صفائی ہوئی تجھ میں

 

اے یثرب و بطحا، ترے والی کی ہے آمد

لے رتبۂ اعلیٰ شہِ عالی کی ہے آمد

عالم کی تغئیری پہ بحالی کی ہے آمد

کہتے ہیں چمن، ماہِ جلالی کی ہے آمد

 

یہ خانۂ کعبہ کی مباہات کے دن ہیں

یعقوب سے یُوسف کی ملاقات کے دن ہیں

 

اے ارضِ مدینہ، تجھے فوق اب ہے فلک پر

رونق جو سما پر ہے وہ اب ہو گی سمک پر

خورشید ملا، تیرا ستارہ ہے چمک پر

صدقے گلِ تر ہیں ترے پھولوں کی مہک پر

 

پَر جس پہ فرشتوں کے بچھیں، فرش وہی ہے

جس خاک پہ ہو نورِ خدا، عرش وہی ہے

 

یا ختمِ رسل، گوہرِ مقصود مبارک

یا نورِ خدا، اخترِ مسعود مبارک

یا شاہِ نجف، شادیِ مولود مبارک

یا خیرِ نسا، اخترِ مسعود مبارک

 

رونق ہو سدا، نور دوبالا رہے گھر میں

اِس ماہِ دو ہفتہ کا اجالا رہے گھر میں

 

اے امّتیو، ہے یہ دمِ شکر گزاری

ہر بار کرو سجدۂ شکریّۂ باری

اللہ نے حل کر دیا مشکل کو تمھاری

فردیں عملِ زشت کی اب چاک ہیں ساری

 

لکھے گئے بندوں میں ولی ابنِ ولی کے

ناجی ہوئے صدقے میں حسین ابنِ علی کے

 

اے ماہِ معظم، ترے اقبال کے صدقے

شوکت کے فدا، عظمت و اجلال کے صدقے

اُتری برکت، فاطمہ کے لال کے صدقے

جس سال یہ پیدا ہوئے اس سال کے صدقے

 

قرباں سحرِ عید اگر ہو تو بجا ہے

نو روز بھی اس شب کی بزرگی پہ فدا ہے

 

قربان شبِ جمعۂ شعبانِ خوش انجام

پیدا ہوا جس شب کو محمد کا گل اندام

قایم ہوا دین، اور بڑھی رونقِ اسلام

ہم پلّۂ صبحِ شبِ معراج تھی وہ شام

 

خورشید کا اجلال و شرف بدر سے پوچھو

کیا قدر تھی اس شب کی شبِ قدر سے پوچھو

 

وہ نورِ قمر اور وہ دُر افشانیِ انجم

تھی جس کے سبب روشنیِ دیدۂ مردم

وہ چہچہے رضواں کے وہ حوروں کا تبسّم

آپس میں وہ ہنس ہنس کے فرشتوں کا تکلّم

 

میکال شگفتہ ہوتے جاتے تھے خوشی سے

جبریل تو پھولوں نہ سماتے تھے خوشی سے

 

روشن تھا مدینے کا ہر اک کُوچہ و بازار

جو راہ تھی خوشبو، جو محلّہ تھا وہ گل زار

کھولے ہوئے تھا آہوئے شب نافۂ تاتار

معلوم یہ ہوتا تھا کہ پھولوں کا ہے انبار

 

گردوں کو بھی اک رشک تھا زینت پہ زمیں کی

ہر گھر میں ہوا آتی تھی فردوسِ بریں کی

 

کیا شب تھی وہ مسعود ہمایون و معظّم

رُخ رحمتِ معبود کا تھا جانبِ عالم

جبریل و سرافیل کو مہلت نہ تھی اِک دم

بالائے زمیں آتے تھے اور جاتے تھے باہم

 

باشندوں کو یثرب کے خبر نہ تھی گھروں کی

سب سنتے تھے آواز فرشتوں کے پروں کی

 

تھی فاطمہ بے چین ادھر دردِ شکم سے

منہ فق تھا اور آنسو تھے رواں دیدۂ نم سے

وابستہ تھی راحت اسی بی بی کے دم سے

مضطر تھے علی بنتِ پیمبر کے الم سے

 

آرام تھا اک دم نہ شہِ قلعہ شکن کو

پھرتے تھے لگائے ہوئے چھاتی سے حَسن کو

 

کرتے تھے دعا، بادشہِ یثرب و بطحا

راحم ہے تری ذاتِ مقدّس، مرے مولا

زہرا ہے کنیز اور مِرا بچّہ تیرا بندا

آسان کر اے بارِ خدا مشکلِ زہرا

 

نادار ہے اور فاقہ کش و زار و حزیں ہے

مادر بھی تشفّی کے لیے پاس نہیں ہے

 

ناگاہ درِ حجرہ ہوا مطلعِ انوار

دکھلانے لگے نورِ تجلّی در و دیوار

اسما نے علی سے یہ کہا دوڑ کے اِک بار

فرزند مبارک تمھیں یا حیدرِ کرّار

 

اسپند کرو فاطمہ کے ماہِ جبیں پر

فرزند نہیں، چاند یہ اترا ہے زمیں پر

 

دیکھا نہیں اس طرح کا چہرہ کبھی پیارا

نقشہ ہے محمد سے، شہنشاہ کا سارا

ماتھے پہ چمکتا ہے جلالت کا ستارا

اللہ نے اس گھر میں عجب چاند اتارا

 

تصویرِ رسولِ عربی دیکھ رہے ہیں

آنکھوں کی ہے گردش کہ نبی دیکھ رہے ہیں

 

اُمّ ِ سَلَمہ نے کہا یا شاہِ رسالت

پیشانیِ انور پہ ہے کیا نورِ امامت

لاریب کہ قرآنِ مبیں کی ہے یہ آیت

تم شمعِ رسالت ہو تو یہ نورِ ہدایت

 

خوش ہو کہ نمازی ہے یہ دلبند تمھارا

اللہ کے سجدے میں ہے فرزند تمھارا

 

مژدہ یہ سنا احمدِ مختار نے جس دم

بس شکر کے سجدے کو گرے قبلۂ عالم

آئے طرَفِ خانۂ زہرا خوش و خرّم

فرمایا مبارک پسر، اے ثانیِ مریم

 

چہرہ مجھے دکھلا دو مرے نورِ نظر کا

ٹکڑا ہے یہ فرزندِ محمد کے جگر کا

 

کی عرض یہ اسما نے کہ اے خاصۂ داور

نہلا لوں، تو لے آؤں اسے حجرے سے باہر

ارشاد کیا احمدِ مختار نے ہنس کر

لے آ کہ نواسہ ہے مرا طاہر و اطہر

 

اس چاند کو تاجِ سرِ افلاک کِیا ہے

یہ وہ ہے خدا نے جسے خود پاک کیا ہے

 

میں اس سے ہوں اور مجھ سے ہے یہ، تو نہیں ماہر

یہ نورِ الٰہی ہے، یہ ہے طیّب و طاہر

اسرار جو مخفی ہیں وہ اب ہوئیں گے ظاہر

یہ آیتِ ایماں ہے، یہ ہے حجّتِ باہر

 

بڑھ کر مددِ سیّدِ لولاک کرے گا

کفّار کے قِصّے کو یہی پاک کرے گا

 

جس دم یہ خبر مخبرِ صادق نے سنائی

اسما اسے اک پارچۂ نرم پہ لائی

بُو اُس گلِ تازہ کی محمد نے جو پائی

ہنسنے لگے، سُرخی رُخِ پُر نور پہ آئی

 

مُنہ چاند سا دیکھا جو رسولِ عَرَبی نے

لپٹا لیا چھاتی سے نواسے کو نبی نے

 

جان آ گئی، یعقوب نے یوسف کو جو پایا

قرآں کی طرح رحل دو زانو پہ بٹھایا

منہ ملنے لگے منہ سے، بہت پیار جو آیا

بوسے لیے اور ہاتھوں کو آنکھوں سے لگایا

 

دل ہل گیا، کی جبکہ نظر سینہ و سر پر

چُوما جو گلا، چل گئی تلوار جگر پر

 

جوش آیا تھا رونے کا مگر تھام کے رقّت

اِس کان میں فرمائی اذاں اُس میں اقامت

حیدر سے یہ فرمایا کہ اے شاہِ ولایت

کیوں تم نے بھی دیکھی مرے فرزند کی صورت

 

پُر نور ہے گھر، تم کو ملا ہے قمر ایسا

دنیا میں کسی نے نہیں پایا پسر ایسا

 

کیونکر نہ ہو تم سا پدر اور فاطمہ سی ماں

دو شمس و قمر کا ہے یہ اِک نیّرِ تاباں

کی عرض یہ حیدر نے کہ اے قبلۂ ایماں

حق اس پہ رکھے سایۂ پیغمبرِ ذی شاں

 

اعلیٰ ہے جو سب سے وہ مقامِ شہِ دیں ہے

بندہ ہوں مَیں اور یہ بھی غلامِ شہِ دیں ہے

 

عالم میں ہے یہ سب برکت آپ کے دم سے

سرسبزیِ ایماں ہے اسی ابرِ کرم سے

تا عرش پہنچ جاتا ہے سر، فیضِ قدم سے

عزّت ہے غلاموں کی شہنشاہِ امم سے

 

کچھ اس میں نہ زہرا کا ہے باعث، نہ علی کا

سب ہے یہ بزرگی کہ نواسا ہے نبی کا

 

فرمانے لگے ہنس کے شہِ یثرب و بطحا

بھائی، کہو فرزند کا کچھ نام بھی رکھا

کی عرض یہ حیدر نے کہ اے سیّدِ والا

سبقت کروں حضرت پہ، یہ مقدور ہے میرا؟

 

فرمایا کہ موقوف ہے یہ رّبِ عُلا پر

میں بھی سبقت کر نہیں سکتا ہوں خدا پر

 

بس اتنے میں نازل ہوئے جبریلِ خوش انجام

کی عرض کہ فرماتا ہے یہ خالقِ علام

پیارا ہے نہایت ہمیں زہرا کا گل اندام

یا ختمِ رسل، ہم نے حُسین اس کا رکھا نام

 

یہ حُسن میں سردارِ حسینانِ زمن ہے

مشتق تو ہے "​احسان”​ سے تصغیر "​حَسن”​ ہے

 

"​ح”​ سے ہے اشارہ کہ یہ ہے حامیِ امّت

سمجھیں گے اسی "​سین”​ کو سب سینِ سعادت

"​ی”​ اس کی بزرگی میں ہے یٰسین کی آیت

ہے "​ن”​ سے ظاہر کہ یہ ہے نورِ نبوّت

 

ناجی ہے وہ اس نام کو لے گا جو دہن سے

یہ حُسن میں دس حصّہ زیادہ ہے حَسن سے

 

دو نور کے دریا کو جو ہم نے کیا اِک جا

تب اس سے ہوا گوہرِ نایاب یہ پیدا

توقیر میں بے مثل، شجاعت میں ہے یکتا

اب اور نہ ہو گا کوئی اس حُسن کا لڑکا

 

ہم جانتے ہیں جو نہیں ظاہر ہے کسی پر

کام اس سے جو لینا ہے وہ ہے ختم اسی پر

 

فیّاض نے کونین کی دولت اسے دی ہے

دی ہے جو علی کو وہ شجاعت اسے دی ہے

صبر اس کو عنایت کیا، ہمّت اسے دی ہے

ان سب کے سوا اپنی مَحبّت اسے دی ہے

 

اعلیٰ ہے، معظّم ہے، مکرّم ہے، ولی ہے

ہادی ہے، وفادار ہے، زاہد ہے، سخی ہے

 

جب کر چکے ذکرِ کرمِ مالکِ تقدیر

جبریل نے پاس آن کے دیکھا رخِ شبّیر

کی صلّ ِ علیٰ کہہ کے، محمد سے یہ تقریر

یا شاہ، یہ مہ رو تو ہے صاف آپ کی تصویر

 

جب کی ہے زیارت پے تسلیم جھُکے ہیں

اس نور کو ہم عرش پہ بھی دیکھ چکے ہیں

 

قدسی ترے فرزند کی خدمت کے لیے ہیں

میکال و سرافیل حفاظت کے لیے ہیں

جِنّ و پری و اِنس اطاعت کے لیے ہیں

سامان پہ اس لال کی رحمت کے لیے ہیں

 

موجود ہے مرکب کے عوض دوش تمھارا

زہرا کی جو گودی ہے تو آغوش تمھارا

 

ہے اس پہ ازل سے نظرِ رحمتِ معبود

یہ پیشتر آدم سے بھی تھا عرش پہ موجود

ہے ذاتِ خدا صاحبِ فیض و کرم و جود

تھا خلقِ دو عالم سے یہی مطلب و مقصود

 

مظلومی و غربت ہے عجب نام پہ اس کے

سب روتے ہیں اور روئیں گے انجام پہ اس کے

 

ہے یہ سببِ تہنیت و تعزیت اس دم

ہے شادی و غم گلشنِ ایجاد میں تواَم

لپٹائے ہیں چھاتی سے جسے قبلۂ عالَم

بے جرم و خطا ذبح کریں گے اسے اظلم

 

گو حشر بھی ہو گا تو یہ آفت نہ ٹلے گی

سجدے میں چھری حلقِ مبارک پہ چلے گی

 

ہو گا یہ محرّم میں ستم اے شہِ ذی جاہ

چھپ جائے گا آنکھوں سے اسی چاند میں یہ ماہ

تاریخِ دہم، جمعہ کے دن، عصر کے وقت آہ

نیزے پہ چڑھائیں گے سرِ پاک کو گم راہ

 

کٹ جائے گا جب سر تو ستم لاش پہ ہوں گے

گھوڑوں کے قدم سینۂ صد پاش پہ ہوں گے

 

لائے محمد کہ میں بسمل ہوا بھائی

اے وائے اخی، کیا یہ خبر مجھ کو سنائی

دل ہل گیا، برچھی سے کلیجے میں در آئی

یہ واقعہ سن کر نہ جئے گی مری جائی

 

ممکن نہیں دنیا میں دوا زخمِ جگر کی

کیونکر کہوں زہرا سے سے خبر مرگِ پسر کی

 

جس وقت سنی فاطمہ نے یہ خبرِ غم

شادی میں ولادت کی بپا ہو گیا ماتم

چلاتی تھی سر پیٹ کے وہ ثانیِ مریم

بیٹے پہ چھری چل گئی یا سیدِ عالم

 

خنجر کے تلے چاند سی تصویر کی گردن

کٹ جائے گی ہے ہے مرے شبیر کی گردن

 

ہے ہے کئی دن تک نہ ملے گا اسے پانی

ہے ہے، یہ سہے گا تعبِ تشنہ دہانی

ہو جائیں گے اک جان کے سب دشمنِ جانی

ہے ہے، مرا محبوب، مرا یوسفِ ثانی

 

پیراہن صد چاک کفن ہوئے گا اس کا

سر نیزے پہ اور خاک پہ تن ہوئے گا اس کا

 

صبر اپنا دکھانے کو یہ آئے ہیں جہاں میں

یوں خلق سے جانے کو یہ آئے ہیں جہاں میں

جنگل کو بسانے کو یہ آئے ہیں جہاں میں

امّاں کے رلانے کو یہ آئے ہیں جہاں میں

 

ہم چاند سی صورت پہ نہ شیدا ہوئے ہوتے

اے کاش مرے گھر میں نہ پیدا ہوئے ہوتے

 

دنیا مجھے اندھیر ہے اس غم کی خبر سے

شعلوں کی طرح آہ نکلتی ہے جگر سے

دامن پہ ٹپکتا ہے لہو دیدۂ تر سے

بس آج سفر کر گئی شادی مرے گھر سے

 

جس وقت تلک جیتی ہوں ماتم میں رہوں گی

"​مظلوم حسین”​ آج سے میں ان کو کہوں گی

 

بیٹی کو یہ معلوم نہ تھا یا شہِ عالم

بجھے گی زچہ خانے کے اندر صفِ ماتم

اب دن ہے چھٹی کا مجھے عاشورِ محرّم

تارے بھی نہ دیکھے تھے کہ ٹوٹا فلکِ غم

 

پوشاک نہ بدلوں گی، نہ سر دھوؤں گی بابا

چِلّے میں بھی چہلم کی طرح روؤں گی بابا

 

حیدر ہیں کہاں، آ کے دلاسہ نہیں دیتے

زہرا کا برا حال ہے، سمجھا نہیں دیتے

اس زخم کا مرہم مجھے بتلا نہیں دیتے

ہے ہے، مجھے فرزند کا پرسا نہیں دیتے

 

حجرے میں الگ بیٹھے ہیں کیوں چھوڑ کے گھر کو

آواز تو سنتی ہوں کہ روتے ہیں پسر کو

 

پھر دیکھ کے فرزند کی صورت یہ پکاری

اے میرے شہید، اے میرے بیکس، ترے واری

ہاں، بعد مرے ذبح کریں گے تجھے ناری

بنتی ہوں ابھی سے میں عزا دار تمھاری

 

دل اور کسی شغل میں مصروف نہ ہو گا

بس آج سے رونا مرا موقوف نہ ہو گا

 

مر جائے گا تُو تشنہ دہن، ہائے حسینا

ہو جائے گا ٹکڑے یہ بدن، ہائے حسینا

اک جان پہ یہ رنج و محن، ہائے حسینا

کوئی تجھے دے گا نہ کفن، ہائے حسینا

 

گاڑیں گے نہ ظالم تنِ صد پاش کو ہے ہے

رہواروں سے روندیں گے تری لاش کو ہے ہے

 

فرمایا محمد نے کہ اے فاطمہ زہرا

کیا مرضیِ معبود سے بندے کا ہے چارا

خالق نے دیا ہے اسے وہ رتبۂ اعلیٰ

جبریل سوا کوئی نہیں جاننے والا

 

میں بھی ہوں فدا اس پہ کہ یہ فدیۂ رب ہے

یہ لال ترا بخششِ امّت کا سبب ہے

 

اس بات کا غم ہے اگر اے جانِ پیمبر

بے دفن و کفن رن میں رہے گا ترا دلبر

جب قید سے ہووے گا رہا عابدِ مضطر

تربت میں وہی دفن کرے گا اسے آ کر

 

ارواحِ رسُولانِ زمن روئیں گی اس کو

سر پیٹ کے زینب سی بہن روئیں گی اس کو

 

جب چرخ پہ ہووے گا عیاں ماہِ محرّم

ہر گھر میں بپا ہووے گی اک مجلسِ ماتم

آئیں گے مَلک عرش سے واں رونے کو باہم

ماتم یہ وہ ماتم ہے کہ ہو گا نہ کبھی کم

 

پُر نور سدا اس کا عزا خانہ رہے گا

خورشید جہاں گرد بھی پروانہ رہے گا

 

کہہ کر یہ سخن روئے بہت احمدِ مختار

منہ رکھ دیا ہونٹوں پہ نواسے کے کئی بار

یوں لپٹے دہن کھول کے شبیرِ خوش اطوار

جس طرح کوئی دودھ کا ہوتا ہے طلب گار

 

جوش آگیا الفت کا دلِ شاہِ زمن میں

مولا نے زباں دے دی نواسے کے دہن میں

 

یُوں چُوسی نواسے نے زبانِ شہِ والا

جس طرح پئے دودھ مزے سے کوئی ماں کا

اللہ رے لعابِ دہنِ پاک کا رتبا

نہریں عَسل و شِیر کی جاری ہوئیں گویا

 

شیریں ہیں لب و کام و دہن جس کے بیاں سے

پوچھے وہ حلاوت کوئی حضرت کی زباں سے

 

سو جاتے تھے یوں شیرِ زباں چُوس کے حضرت

جو دودھ پہ ماں کے بھی نہ پھر ہوتی تھی رغبت

بچپن میں تو خالق نے عطا کی تھی یہ نعمت

مرتے ہوئے پانی نہ ملا وائے مصیبت

 

بے درد و الم شامِ غریباں نہیں گزری

دنیا میں کسی کی کبھی یکساں نہیں گزری

 

کیا اوج ہے، کیا رتبہ ہے اس بزمِ عزا کا

غُل عرش سے ہے فرش تلک صلِّ علیٰ کا

مشتاق ہے فردوسِ بریں، یاں کی فضا کا

پانی میں بھی ہے یاں کے مزا آبِ بقا کا

 

دربار معلّیٰ ہے ولی ابنِ ولی کا

جاری ہے یہ سب فیض حسین ابنِ علی کا

 

مطلعِ سوم

 

یارب، مری فریاد میں تاثیر عطا کر

بلبل بھی پھڑک جائے وہ تقریر عطا کر

توفیقِ ثنا خوانیِ شبیر عطا کر

مدّاح کو اب خلد کی جاگیر عطا کر

 

دعویٰ نہ سخن کا ہے نہ اعجازِ بیاں ہوں

تُو عالم و دانا ہے کہ میں ہیچ مداں ہوں

 

لو، یاں سے بس اب مجلسِ ماتم کا بیاں ہے

وہ فصلِ خوشی ختم ہوئی، غم کا بیاں ہے

مظلومیِ سلطانِ دو عالم کا بیاں ہے

ہنگامۂ عاشورِ محرّم کا بیاں ہے

 

ہاں دیکھ لے مشتاق جو ہو فوجِ خدا کا

لو بزم میں کھلتا ہے مرقع شہدا کا

 

جو چاند سی تصویر ہے وہ خون سے تر ہے

مجروح ہیں اعضا، کہیں تن ہے، کہیں سر ہے

دیکھو تو یہ کس باپ کا مظلوم پسر ہے

برچھی تو کلیجہ میں ہے، برچھی میں جگر ہے

 

ٹکڑے ہے جو دُولھا یہ جگر بند ہے کس کا؟

یہ تیر سے مارا ہوا فرزند ہے کس کا؟

 

دریا پہ جو سوتا ہے وہ کس کا ہے فدائی

مرنے پہ بھی نکلی نہ تھی قبضے سے ترائی

گرمی میں عجب سرد جگہ سونے کو پائی

کس شیر کا فرزند ہے یہ کس کا ہے بھائی

 

اس شان پہ کیوں کر ہو گماں اور کسی کا

شوکت سے یہ ظاہر ہے کہ بیٹا ہے علی کا

 

ریتی پہ جو سوتے ہیں یہ دو چاند سے فرزند

کس باپ کے پیارے ہیں یہ کس ماں کے ہیں دلبند

جلوے میں مہِ چہار دہم سے بھی ہیں دہ چند

یہ حیدر و جعفر کے کلیجے کے ہیں پیوند

 

پایا نہیں پانی بھی کسی تشنہ دہن نے

قربان کیا ہے انھیں بھائی پہ بہن نے

 

مطلعِ چہارم

 

اے خضرِ بیابانِ سخن، راہبری کر

اے نیّرِ تابانِ خرد، جلوہ گری کر

اے درد، عطا لذّتِ زخمِ جگری کر

اے خوفِ الٰہی، مجھے عصیاں سے بری کر

 

بندوں میں لکھا جاؤں ولی ابنِ ولی کے

آزاد ہوں صدقے سے حسین ابنِ علی کے

 

قدسی کو نہیں بار یہ دربار ہے کس کا

فردوس کو ہے رشک یہ گلزار ہے کس کا

سب جنسِ شفاعت ہے، یہ بازار ہے کس کا

خود بِکتا ہے یوسف یہ خریدار ہے کس کا

 

ملتی ہے کہاں مفت متاعِ سخن ایسی

دیکھی نہیں انجم نے کبھی انجمن ایسی

 

مجلس کا زہے نور، خوشا محفلِ عالی

حیدر کے محبّوں سے کوئی جا نہیں خالی

عاشق ہیں سب اس کے جو ہے کونین کا والی

اثنا عَشَری، پنجتنی، شیعۂ غالی

 

ششدر نہ ہو کیوں چرخ عجب جلوہ گری ہے

یہ بزمِ عزا آج ستاروں سے بھری ہے

 

ان میں جو مُسِن ہیں، وہ پیمبر کے ہیں مہماں

اور جو متوسط ہیں، وہ حیدر کے ہیں مہماں

جو تازہ جواں ہیں، علی اکبر کے ہیں مہماں

شیعوں کے پسر سب، علی اصغر کے ہیں مہماں

 

سب خورد و کلاں عاشَقِ شاہِ مَدَنی ہیں

پانچ انگلیوں کی طرح یہ سب پنجتنی ہیں

 

ارشادِ نبی ہے کہ مددگار ہیں میرے

فرماتے ہیں حیدر کہ یہ غم خوار ہیں میرے

حضرت کا سخن ہے کہ عزا دار ہیں میرے

میں ان کا ہوں طالب یہ طلبگار ہیں میرے

 

یہ آج اگر رو کے ہمیں یاد کریں گے

ہم قبر میں ان لوگوں کی امداد کریں گے

 

غم میں میرے بچوں کے یہ سب کرتے ہیں فریاد

اللہ سلامت رکھے ان لوگوں کی اولاد

بستی مرے شیعوں کی رہے خلق میں آباد

یہ حشر کے دن آتشِ دوزخ سے ہوں آزاد

 

مرتا ہے کوئی گر تو بُکا کرتا ہوں میں بھی

ان کے لیے بخشش کی دعا کرتا ہوں میں بھی

 

مردم کے لیے واجبِ عینی ہے یہ زاری

رونا ہی وسیلہ ہے شفاعت کا ہماری

ہے وقتِ معیّن پہ ادا طاعتِ باری

یہ خیر ہے وہ خیر جو ہر وقت ہے جاری

 

رو لو کہ یہ وقت اور یہ صحبت نہ ملے گی

جب آنکھ ہوئی بند تو مہلت نہ ملے گی

 

مہلت جو اجل دے تو غنیمت اسے جانو

آمادہ ہو رونے پہ، سعادت اسے جانو

آنسو نکل آئیں تو عبادت اسے جانو

ایذا بھی ہو مجلس میں تو راحت اسے جانو

 

فاقے کیے ہیں، دھوپ میں لب تشنہ رہے ہیں

آقا نے تمھارے لیے کیا ظلم سہے ہیں

 

تکلیف کچھ ایسی نہیں، سایہ ہے ہوا ہے

پانی ہے خنک، مِروَحَہ کش بادِ صبا ہے

کچھ گرمیِ عاشور کا بھی حال سنا ہے

سر پیٹنے کا وقت ہے، ہنگامِ بُکا ہے

 

گزری ہے بیاباں میں وہ گرمی شہِ دیں پر

بھُن جاتا تھا دانہ بھی جو گرتا تھا زمیں پر

 

لُو چلتی تھی ایسی کہ جلے جاتے تھے اشجار

تھا عنصرِ خاکی پہ گمانِ کرۂ نار

پانی پہ دَد و دام گرے پڑتے تھے ہر بار

سب خلق تو سیراب تھی پیاسے شہِ ابرار

 

خاک اڑ کے جمی جاتی تھی زلفوں پہ قبا پر

اس دھوپ میں سایہ بھی نہ تھا نورِ خدا پر

 

قطرے جو پسینے کے ٹپک پڑتے تھے ہر بار

ثابت یہی ہوتا تھا کہ ہیں اخترِ سیّار

شاہد المِ فاقہ پہ ہے زردیِ رخسار

بے آبی سے اُودے تھے لبِ لعلِ گہر بار

 

دنیا میں ترستے رہے وہ آبِ رواں کو

جن ہونٹوں نے چُوسا تھا محمد کی زباں کو

 

مطلعِ پنجم

 

دنیا بھی عجب گھر ہے کہ راحت نہیں جس میں

وہ گُل ہے یہ گل، بوئے محبّت نہیں جس میں

وہ دوست ہے یہ دوست، مرّوت نہیں جس میں

وہ شہد ہے یہ شہد، حلاوت نہیں جس میں

 

بے درد و الم شامِ غریباں نہیں گزری

دنیا میں کسی کی کبھی یکساں نہیں گزری

 

گودی ہے کبھی ماں کی، کبھی قبر کا آغوش

گُل پیرہن اکثر نظر آتے ہیں کفن پوش

سرگرمِ سخن ہے کبھی انساں، کبھی خاموش

گہ تخت ہے اور گاہ جنازہ بہ سرِ دوش

 

اک طور پہ دیکھا نہ جواں کو نہ مُسِن کو

شب کو تو چھپر کھٹ میں ہیں، تابوت میں دن کو

 

شادی ہو کہ اندوہ ہو، آرام ہو یا جَور

دنیا میں گزر جاتی ہے انساں کی بہر طَور

ماتم کی کبھی فصل ہے، عشرت کا کبھی دَور

ہے شادی و ماتم کا مرقع جو کرو غور

 

کس باغ پہ آسیبِ خزاں آ نہیں جاتا

گل کون سا کھلتا ہے جو مرجھا نہیں جاتا

 

ہے عالمِ فانی کی عجب صبح، عجب شام

گہ غم، کبھی شادی، کبھی ایذا، کبھی آرام

نازوں سے پلا فاطمہ زہرا کا گل اندام

وا حسرت و دردا، کہ وہ آغاز یہ انجام

 

راحت نہ ملی گھر کے تلاطم سے دہم تک

مظلوم نے فاقے کئے ہفتم سے دہم تک

 

ریتی پہ عزیزوں کا مرقع تو ہے ابتر

شہ کا ہے یہ نقشہ کہ ہیں تصویر سے ششدر

فرزند نہ مسلم کے، نہ ہمشیر کے دلبر

قاسم ہیں، نہ عبّاس، نہ اکبر ہیں نہ اصغر

 

سب نذر کو دربارِ پیمبر میں گئے ہیں

رخصت کو اکیلے شہِ دیں گھر میں گئے ہیں

 

منظور ہے پھر دیکھ لیں ہمشیر کی صورت

پھر لے گئی ہے گھر میں سکینہ کی محبّت

سجّاد سے کچھ کہنے ہیں اسرارِ امامت

بانوئے دو عالم سے بھی ہے آخری رخصت

 

مطلوب یہ ہے، زیبِ بدن رختِ کہن ہو

تا بعدِ شہادت وہی ملبوسِ بدن ہو

 

خیمے میں مسافر کا وہ آنا تھا قیامت

اِک ایک کو چھاتی سے لگانا تھا قیامت

آنا تو غنیمت تھا، پہ جانا تھا قیامت

تھوڑا سا وہ رخصت کا زمانا تھا قیامت

 

واں بَین، اِدھر صبر و شکیبائی کی باتیں

افسانۂ ماتم تھیں بہن بھائی کی باتیں

 

حضرت کا وہ کہنا کہ بہن صبر کرو صبر

امت کے لیے والدہ صاحب نے سہے جبر

وہ کہتی تھی کیونکر نہ میں روؤں صفتِ ابر

تم پہنو کفن اور نہ بنے ہائے مری قبر

 

لٹتے ہوئے امّاں کا گھر ان آنکھوں سے دیکھوں

ہے ہے تہِ خنجر تمھیں کن آنکھوں سے دیکھوں

 

اس عمر میں ٹھوڑے غمِ جانکاہ اٹھائے

اشک آنکھوں سے امّاں کے جنازے پہ بہائے

آنسو نہ تھمے تھے کہ پدر خوں میں نہائے

ٹکڑے دلِ شبّر کے لگن میں نظر آئے

 

حضرت کے سوا اب کوئی سر پر نہیں بھائی

انساں ہوں، کلیجا مرا پتھر نہیں بھائی

 

ہر شخص کو ہے یوں تو سفر خلق سے کرنا

دشوار ہے اِک آن مسافر کا ٹھہرنا

ان آنکھوں سے دیکھا ہے بزرگوں کا گزرنا

ہے سب سے سوا ہائے یہ مظلومی کا مرنا

 

صدقے گئی، یوں رن کبھی پڑتے نہیں دیکھا

اِک دن میں بھرے گھر کو اجڑتے نہیں دیکھا

 

ہے ہے تمھیں میں لے کے کہاں چھپ رہوں بھائی

لٹتی ہے مرے چار بزرگوں کی کمائی

کس دشتِ پر آشوب میں قسمت مجھے لائی

یا رب، کہیں مر جائے ید اللہ کی جائی

 

زہرا کا پسر وقتِ جدائی مجھے روئے

سب کو تو میں روئی ہوں، یہ بھائی مجھے روئے

 

زینب کی وہ زاری، وہ سکینہ کا بلکنا

وہ ننھی سی چھاتی میں کلیجے کا دھڑکنا

وہ چاند سا منہ اور وہ بُندے کا چمکنا

حضرت کا وہ بیٹی کی طرف یاس سے تکنا

 

حسرت سے یہ ظاہر تھا کہ معذور ہیں بی بی

پیدا تھا نگاہوں سے کہ مجبور ہیں بی بی

 

وہ کہتی تھی، بابا ہمیں چھاتی سے لگاؤ

فرماتے تھے شہ، آؤ نا، جانِ پدر آؤ

ہم کڑھتے ہیں، تم آنکھوں سے آنسو نہ بہاؤ

خوشبو تو ذرا گیسوئے مشکیں کی سنگھاؤ

 

کوثر پہ بھی تم بِن نہیں آرام چچا کو

ہم جاتے ہیں کچھ دیتی ہو پیغام چچا کو

 

بی بی، کہو کیا حال ہے اب ماں کا تمھاری

کس گوشے میں بیٹھی ہیں، کہاں کرتی ہیں زاری

جب سے سوئے جنّت گئی اکبر کی سواری

دیکھا نہ انھیں، گھر میں ہم آئے کئی باری

 

تھی سب کی محبّت انھیں بیٹے ہی کے دم تک؟

کیا آخری رخصت کو بھی آئیں گی نہ ہم تک؟

 

کس جا ہیں، طلب ہم کو کریں، یاد ہی آئیں

ممکن نہیں اب وہ ہمیں یا ہم انہیں پائیں

کچھ ہم سے سنیں، کچھ ہمیں حال اپنا سنائیں

اک دم کے مسافر ہیں، ہمیں دیکھ تو جائیں

 

بعد اپنے یہ لُوٹا ہوا گھر اور لُٹے گا

افسوس کہ اک عمر کا ساتھ آج چھٹے گا

 

غش میں جو سنی بانوئے مضطر نے یہ تقریر

ثابت ہوا مرنے کو چلے حضرتِ شبیر

سر ننگے اٹھی چھوڑ کے گہوارۂ بے شیر

چلّائی مجھے ہوش نہ تھا، یا شہِ دلگیر

 

جاں تن سے کوئی آن میں اب جاتی ہے آقا

یہ خادمہ رخصت کے لیے آتی ہے آقا

 

یہ سن کے بڑھے چند قدم شاہِ خوش اقبال

قدموں پہ گری دوڑ کے وہ کھولے ہوئے بال

تھا قبلۂ عالم کا بھی اس وقت عجب حال

روتے تھے غضب، آنکھوں پہ رکھّے ہوئے رومال

 

فرماتے تھے جاں کاہ جدائی کا الم ہے

اٹھو تمھیں روحِ علی اکبر کی قسم ہے

 

وہ کہتی تھی کیوں کر میں اٹھوں اے مرے سرتاج

والی، انہی قدموں کی بدولت ہے مرا راج

سر پر جو نہ ہو گا پسرِ صاحبِ معراج

چادر کے لیے خلق میں ہو جاؤں گی محتاج

 

چھُوٹے جو قدم، مرتبہ گھٹ جائے گا میرا

قربان گئی، تخت الٹ جائے گا میرا

 

یاں آئی میں، جب خانۂ کسریٰ ہوا برباد

وہ پہلی اسیری کی اذیّت ہے مجھے یاد

کی عقدہ کشائے دو جہاں نے مری امداد

حضرت کے تصدّق میں ہوئی قید سے آزاد

 

لونڈی سے بہو ہو گئی زہرا و علی کی

قسمت نے بٹھایا مجھے مسند پہ نبی کی

 

چھبیس برس تک نہ چھٹا آپ کا پہلو

اب ہجر ہے تقدیر میں یا سیّدِ خوش خو

ہر شب رہے تکیہ سرِ اقدس کا جو بازو

ہے ہے اسے اب رسّی سے باندھیں گے جفا جو

 

سر پر نہ ردا ہو گی تو مر جاؤں گی صاحب

چھپنے کو میں جنگل میں کدھر جاؤں گی صاحب

 

حضرت نے کہا کس کا سدا ساتھ رہا ہے

ہر عاشق و معشوق نے یہ داغ سہا ہے

دارِ محن اس دار کو داور نے کہا ہے

ہر چشم سے خونِ جگر اس غم میں بہا ہے

 

فرقت میں عجب حال تھا خالق کے ولی کا

ساتھ آٹھ برس تک رہا زہرا و علی کا

 

سو سو برس اک گھر میں مَحبّت سے رہے جو

بس موت نے دم بھر میں جدا کر دیا ان کو

کچھ مرگ سے چارہ نہیں اے بانوئے خوش خو

ہے شاق فلک پر کہ رہیں ایک جگہ دو

 

کس کس پہ زمانے نے جفا کی نہیں صاحب

اچھوں سے کبھی اس نے وفا کی نہیں صاحب

 

لازم ہے خدا سے طلبِ خیر بشر کو

تھامے گا تباہی میں وہی رانڈ کے گھر کو

آنا ہے تمھیں بھی وہیں جاتے ہیں جدھر کو

وارث کی جدائی میں پٹکتے نہیں سر کو

 

کھولے گا وہ رسّی سے بندھے ہاتھ تمھارے

سجّاد سا بیٹا ہے جواں ساتھ تمھارے

 

زینب کو تو دیکھو کہ ہیں کس دکھ میں گرفتار

ایسا کوئی اس گھر میں نہیں بے کس و ناچار

تنہا ہیں کہ بے جاں ہوئے دو چاند سے دلدار

دنیا سے گیا اکبرِ ناشاد سا غم خوار

 

بیٹے بھی نہیں گود کا پالا بھی نہیں ہے

ان کا تو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے

 

یہ کہہ کے کچھ ارشاد کیا گوشِ پسر میں

بیمار کے رونے سے قیامت ہوئی گھر میں

اندھیر زمانہ ہوا بانو کی نظر میں

غش ہو گئی زینب، یہ اٹھا درد جگر میں

 

ٹھہرا نہ گیا پھر شہِ والا نکل آئے

تنہا گئے روتے ہوئے تنہا نکل آئے

 

کچھ بڑھ کر پھرے جانبِ قبلہ شہِ بے پر

کج کی طرفِ دوشِ یمیں گردنِ انور

تھرّائے ہوئے ہاتھوں پہ عمّامے کو رکھ کر

کی حق سے مناجات کہ اے خالقِ اکبر

 

حرمت ترے محبوب کی دنیا میں بڑی ہے

کر رحم کہ آل ان کی تباہی میں پڑی ہے

 

یا رب، یہ ہے سادات کا گھر تیرے حوالے

رانڈیں ہیں کئی خستہ جگر تیرے حوالے

بیکس کا ہے بیمار پسر تیرے حوالے

سب ہیں ترے دریا کے گہر تیرے حوالے

 

عالم ہے کہ غربت میں گرفتارِ بلا ہوں

میں تیری حمایت میں انھیں چھوڑ چلا ہوں

 

میرے نہیں، بندے ہیں ترے اے مرے خالق

بستی ہو کہ جنگل تُو ہی حافظ، تو ہی رازق

باندھے ہیں کمر ظلم و تعدّی پہ منافق

یہ دوست ہے دنیا، نہ زمانہ ہے موافق

 

حرمت ہے ترے ہاتھ امامِ اَزَلی کی

دو بیٹیاں، دو بہویں ہیں اس گھر میں علی کی

 

میں یہ نہیں کہتا کہ اذیّت نہ اٹھائیں

یا اہلِ ستم آگ سے خیمے نہ جلائیں

ناموس لٹیں، قید ہوں اور شام میں جائیں

مہلت مرے لاشے پہ بھی رونے کی نہ پائیں

 

بیڑی میں قدم، طوق میں عابد کا گلا ہو

جس میں ترے محبوب کی امّت کا بھلا ہو

 

یہ کہہ کے گریبانِ مبارک کو کیا چاک

اور ڈال لی پیراہنِ پُر نور پہ کچھ خاک

میّت ہوئے شبّیر، کفن بن گئی پوشاک

بس فاتحۂ خیر پڑھا با دلِ غمناک

 

مڑ کر نہ کسی دوست، نہ غم خوار کو دیکھا

پاس آئے تو روتے ہوئے رہوار کو دیکھا

 

گردان کے دامن علی اکبر کو پکارے

تھامو مرے گھوڑے کی رکاب، اے مرے پیارے

لختِ دلِ شبّر، کدھر اس وقت سدھارے

بھائی ہیں کہاں، ہاتھ میں دیں ہاتھ ہمارے

 

آتے نہیں، مسلم کے جگر بند کہاں ہیں

دونوں مری ہمشیر کے فرزند کہاں ہیں

 

تنہائی میں اک ایک کو حضرت نے پکارا

کون آئے کہ فردوس میں تھا قافلہ سارا

گھوڑے پہ چڑھا خود اسداللہ کا پیارا

اونچا ہوا افلاکِ امامت کا ستارا

 

شوخی سے فَرَس پاؤں نہ رکھتا تھا زمیں پر

غل تھا کہ چلا قطبِ زماں عرشِ بریں پر

 

شبدیز نے چھل بل میں عجب ناز دکھایا

ہر گام پہ طاؤس کا انداز دکھایا

زیور نے عجب حُسنِ خدا ساز دکھایا

فتراک نے اوجِ پرِ پرواز دکھایا

 

تھا خاک پہ اک پاؤں تو اک چرخِ بریں پر

غل تھا کہ پھر اترا ہے براق آج زمیں پر

 

بجلی کو نہ تھا اس کی جلو لینے کا یارا

رہوار کو دُلدل کا چلن یاد تھا سارا

اڑنے میں نہ آہُو کبھی جیتا، نہ چکارا

شہباز بھی بازی اسی جانباز سے ہارا

 

طاؤس کا کیا ذکر، پری سے بھی حَسیں تھا

سایہ تھا کہیں دھوپ میں اور آپ کہیں تھا

 

جانباز نے طے کی عجب انداز سے وہ راہ

لے آئی سلیماں کو ہوا تا صفِ جنگاہ

وہ رعب، وہ شوکت وہ نہیبِ شہِ ذی جاہ

دلدل کو اڑاتے ہوئے آئے اسد اللہ

 

غل تھا یہ محمد ہیں کہ خالق کے ولی ہیں

اقبال پکارا کہ حسین ابنِ علی ہیں

 

نصرت نے صدا دی کہ مدد گارِ جہاں ہیں

صولت نے کہا تاجِ سرِ کون و مکاں ہیں

گویا ہوئی ہمّت کہ محمد کی زباں ہیں

غربت نے کہا فاقہ کش و تشنہ دہاں ہیں

 

سطوت یہ پکاری بخدا شیر یہی ہیں

بولی ظفر اللہ کی شمشیر یہی ہیں

 

عکسِ رخِ روشن جو چمکتا ہوا آیا

ذرّوں نے شہِ شرق کے پہلو کو دبایا

جنگل میں پری بن گیا ہر نخل کا سایا

کرسی سے زمیں کہتی تھی دیکھا مرا پایا

 

تھی چاندنی، خورشیدِ فلک شرم سے گم تھا

وہ روزِ دہم رشکِ شبِ چار دہم تھا

 

تنہا تھے یہ اللہ ری جلالت شہِ دیں کی

تھرّاتے تھے سب دیکھ کے صولت شہِ دیں کی

گردوں پہ مَلک تکتے تھے صورت شہِ دیں کی

غل تھا کہ یہ آخر ہے زیارت شہِ دیں کی

 

خود حُسن یہ کہتا تھا کہ شمعِ سحری ہوں

شبّیر کا کیا کوچ ہے میں بھی سفری ہوں

 

ہاں دیکھ لو تنویرِ جبینِ شہِ والا

یہ حُسن میں ہے ماہِ دو ہفتہ سے دو بالا

ہے برقِ تجلّی اِسی مہتاب کا ہالا

اندھیر ہے پر جب نہ رہا اس کا اجالا

 

آنکھوں سے نہاں ہو گی جو یہ نور کی صورت

ہو جائیں گی صبحیں شبِ دیجور کی صورت

 

گر لاکھ جلائے گا دل اپنا کوئی دل سوز

اس کعبۂ ابرو سے نہ ہو گا شمع افروز

گردش میں رہیں گے جو مہ و مہر شب و روز

دیکھیں گے یہ زلفیں نہ یہ رخسارِ دل افروز

 

کلیاں تو بہت باغ میں نرگس کی کھِلیں گی

ڈھونڈیں گی جو مردم کو تو آنکھیں نہ ملیں گی

 

خوبی دہن و لب کی سمجھنے میں سب حیراں

روئیں گے جو یاد آئے گا یہ سینۂ تاباں

ملنا دُر و یاقوت کا مشکل نہیں چنداں

دیکھو گے زمانے میں نہ ایسے لب و دنداں

 

یہ دُرّ ِ گرانمایہ صدف میں نہ ملیں گے

کیا ذکر صدف کا ہے نجف میں نہ ملیں گے

 

چھانے گی اگر بادِ صبا خاک چمن کی

خوشبو کہیں پائے گی نہ اس سیبِ ذقن کی

ضَو دیکھ رگِ گردنِ سردارِ زمن کی

پر تَو سے زمیں غیرتِ آئینہ ہے رَن کی

 

سوزِ غمِ فرقت کو نہ بیگانوں سے پوچھو

اِس شمع کے بجھ جانے کو پروانوں سے پوچھو

 

یہ صدر جو الہامِ الٰہی کا ہے مصدر

دل علم کا، اسلام کا گھر، شرع کا مظہر

دیں دار سمجھتے ہیں اسے مصحفِ اکبر

ہو جائے گا وقفِ تبر و نیزہ و خنجر

 

کاٹیں گے ہر اک جزوِ تنِ شاہِ امم کو

کھُل جائیں گے شیرازۂ قرآں کوئی دم کو

 

ان ہاتھوں کو اب لائیں گے مشکل میں کہاں سے

زخمی انھیں کر دیں گے لعیں تیغ و سناں سے

جاری تھی عجب خیر شہِ کون و مکاں سے

ہیہات چلا عقدہ کشا آج جہاں سے

 

یوں تجھ پہ نہ ان ہاتھوں کا احوال کھلے گا

مشکل کوئی پڑ جائے گی تب حال کھلے گا

 

لو مومنو، سن لو شہِ ذی جاہ کی تقریر

حضرت یہ رجز پڑھتے تھے تولے ہوئے شمشیر

دیکھو، نہ مٹاؤ مجھے اے فرقۂ بے پیر

میں یوسفِ کنعانِ رسالت کی ہوں تصویر

 

واللہ تعلّی نہیں، یہ کلمۂ حق ہے

عالم کے مرقّع میں حُسین ایک ورق ہے

 

واللہ جہاں میں مرا ہمسر نہیں کوئی

محتاج ہوں پر مجھ سا تونگر نہیں کوئی

ہاں، میرے سوا شافعِ محشر نہیں کوئی

یوں سب ہیں مگر سبطِ پیمبر نہیں کوئی

 

باطل ہے اگر دعویٰ اعجاز کرے گا

کس بات پہ دنیا میں کوئی ناز کرے گا

 

ہم وہ ہیں کہ اللہ نے کوثر ہمیں بخشا

سرداریِ فردوس کا افسر ہمیں بخشا

اقبالِ علی، خُلقِ پیمبر ہمیں بخشا

قدرت ہمیں دی، زور ہمیں، زر ہمیں بخشا

 

ہم نور ہیں، گھر طورِ تجلّا ہے ہمارا

تختِ بنِ داؤد مصلّا ہے ہمارا

 

نانا وہ کہ ہیں جن کے قدم عرش کے سرتاج

قوسین مکاں، ختمِ رسل، صاحبِ معراج

ماں ایسی کہ سب جس کی شفاعت کے ہیں محتاج

باپ ایسا، صنم خانوں کو جس نے کیا تاراج

 

لڑنے کو اگر حیدرِ صفدر نہ نکلتے

بُت گھر سے خدا کے کبھی باہر نہ نکلتے

 

کس جنگ میں سینے کو سپر کر کے نہ آئے

کس مرحلۂ صعب کو سر کر کے نہ آئے

کس فوج کی صف زیر و زبر کر کے نہ آئے

تھی کون سی شب جس کو سحر کر کے نہ آئے

 

تھا کون جو ایماں تہہِ صمصام نہ لایا

اس شخص کا سر لائے جو اسلام نہ لایا

 

اصنام بھی کچھ کم تھے نہ کفّار تھے تھوڑے

طاقت تھی کہ عزّیٰ کوئی لات سے توڑے؟

بدکیشوں نے سجدے بھی کیے، ہاتھ بھی جوڑے

بے توڑے وہ بت حیدرِ صفدر نے نہ چھوڑے

 

کعبے کو صفا کر دیا خالق کے کرم سے

نکلے اسد اللہ اذاں دے کے حرم سے

 

ہے کون سا وہ فخر کہ زیبا نہیں ہم کو

وہ کیا ہے جو اللہ نے بخشا نہیں ہم کو

واللہ کسی چیز کی پروا نہیں ہم کو

کیا بات ہے خود خواہشِ دنیا نہیں ہم کو

 

غافل ہے وہ دنیا کے مزے جس نے لیے ہیں

بابا نے مِرے تین طلاق اس کو دیے ہیں

 

جو چاہیں جسے بخش دیں ہم ہاتھ اٹھا کے

انگلی نہیں، کنجی ہیں یہ اسرارِ خدا کے

خالی کوئی جاتا نہیں دروازے پہ آ کے

بھر دیتے ہیں فاقوں میں بھی کاسے فقرا کے

 

سر دیتے ہیں سائل کو جگر بندِ علی ہیں

فیّاض کے بندے ہیں، سخی ابنِ سخی ہیں

 

اس عہد میں مالک اُسی تلوار کے ہم ہیں

جرّار پسر حیدرِ کرّار کے ہم ہیں

فرزند، محمد سے جہاں دار کے ہم ہیں

وارث شہِ لولاک کی سرکار کے ہم ہیں

 

کچھ غیرِ کفن ساتھ نہیں لے کے گئے ہیں

تابوتِ سکینہ بھی ہمیں دے کے گئے ہیں

 

یہ فرق پہ عمّامۂ سردارِ زمن ہے

یہ تیغِ علی ہے، یہ کمر بندِ حَسن ہے

یہ جوشنِ داؤد ہے جو حافظِ تن ہے

یہ پیرہنِ یوسفِ کنعانِ محن ہے

 

دکھلائیں سند دستِ رسولِ عَرَبی کی

یہ مہرِ سلیماں ہے، یہ خاتم ہے نبی کی

 

دیکھو تو، یہ ہے کون سے جرّار کی تلوار

کس شیر کے قبضے میں ہے کرّار کی تلوار

دریا نے بھی دیکھی نہیں اس دھار کی تلوار

بجلی کی تو بجلی ہے یہ تلوار کی تلوار

 

قہر و غضب اللہ کا ہے، کاٹ نہیں ہے

کہتے ہیں اسے موت کا گھر، گھاٹ نہیں ہے

 

دم لے کہیں رک کر، وہ روانی نہیں اس میں

چلنے میں سبک تر ہے، گرانی نہیں اس میں

جز حرفِ ظفر اور نشانی نہیں اس میں

جل جاؤ گے سب، آگ ہے، پانی نہیں اس میں

 

چھوڑے گی نہ زندہ اسے جو دشمَنِ دیں ہے

نابیں نہیں، غصّے سے اجل چیں بہ چیں ہے

 

کچھ بس نہ چلے گا جو یہ خونخوار چلے گی

سر اڑنے کی آندھی دمِ پیکار چلے گی

تھم جائے گی ایک بار تو سَو بار چلے گی

اُگلے گا لہو چرخ وہ تلوار چلے گی

 

میداں سے کہیں بھاگ کے جانا نہ ملے گا

دم لینے کا دنیا میں ٹھکانہ نہ ملے گا

 

ہم سے کوئی اعلیٰ نہیں عالی نَسَبی میں

طفلی سے حمائل رہے آغوشِ نبی میں

ہم مصحفِ ناطق ہیں زبانِ عَرَبی میں

تفسیر ہیں قرآن کی ہم تشنہ لبی میں

 

مخفی ہیں جو رتبے وہ عیاں ہو نہیں سکتے

خود ہم سے شرف اپنے بیاں ہو نہیں سکتے

 

سب قطرے ہیں، گر فیض کے دریا ہیں تو ہم ہیں

ہر نقطۂ قرآں کے شناسا ہیں تو ہم ہیں

حق جس کا ہے جامع وہ ذخیرا ہیں تو ہم ہیں

افضل ہیں تو ہم، عالم و دانا ہیں تو ہم ہیں

 

تعلیمِ مَلک عرش پر تھا وِرد ہمارا

جبریل سا استاد ہے شاگرد ہمارا

 

گر فیضِ ظہورِ شہِ لولاک نہ ہوتا

بالائے زمیں گنبدِ افلاک نہ ہوتا

کچھ خاک کے طبقے میں بجز خاک نہ ہوتا

ہم پاک نہ کرتے تو جہاں پاک نہ ہوتا

 

یہ شور اذاں کا سحر و شام کہاں تھا

ہم عرش پہ تھے جب تو یہ اسلام کہاں تھا

 

محسن سے بدی، ہے یہی احساں کا عوض واہ

دشمن کے ہوا خواہ ہوئے، دوست کے بد خواہ

گمراہ کے بہکانے سے روکو نہ مری راہ

لو، اب بھی مسافر کو نکل جانے دو لِلّہ

 

مل جائے گی اک دم میں اماں رنج و بلا سے

میں ذبح سے بچ جاؤں گا، تم قہرِ خدا سے

 

بستی میں کہیں مسکن و ماوا نہ کروں گا

یثرب میں بھی جانے کا ارادہ نہ کروں گا

صابر ہوں، کسی کا کبھی شکوہ نہ کروں گا

اِس ظلم کا میں ذکر بھی اصلا نہ کروں گا

 

رونا نہ چھٹے گا کہ عزیزوں سے چھٹا ہوں

جو پوچھے گا کہہ دوں گا کہ جنگل میں لٹا ہوں

 

اعدا نے کہا، قہرِ خدا سے نہیں ڈرتے

ناری تو ہیں، دوزخ کی جفا سے نہیں ڈرتے

فریادِ رسولِ دوسرا سے نہیں ڈرتے

خاتونِ قیامت کی بُکا سے نہیں ڈرتے

 

ہم لوگ، جدھر دولتِ دنیا ہے، اُدھر ہیں

اللہ سے کچھ کام نہیں، بندۂ زر ہیں

 

حضرت نے کہا، خیر خبردار صفوں سے

آیا غضب اللہ کا، ہشیار صفوں سے

بجلی سا گزر جاؤں گا ہر بار صفوں سے

کب پنجتنی رکتے ہیں دو چار صفوں سے

 

غربت کا چلن دیکھ چکے، حرب کو دیکھو

لو، بندۂ زر ہو تو مری ضرب کو دیکھو

 

ہاں گوشۂ عزلت خمِ شمشیر نے چھوڑا

واں سہم کے چلّے کو ہر اک تیر نے چھوڑا

کس قہر سے گھر موت کی تصویر نے چھوڑا

ساحل کو صفِ لشکرِ بے پیر نے چھوڑا

 

عنقائے ظفر، فتح کا در کھول کے نکلا

شہبازِ اجل صید کو پر تول کے نکلا

 

جلوہ کیا بدلی سے نکل کر مہِ نو نے

دکھلائے ہوا میں دو سر اک شمع کی لو نے

تڑپا دیا بجلی کو فرس کی تگ و دو نے

تاکا سپرِ مہر کو شمشیر کی ضو نے

 

اعدا تو چھپانے لگے ڈھالوں میں سروں کو

جبریل نے اونچا کیا گھبرا کے پروں کو

 

بالا سے جو آئی وہ بلا جانبِ پستی

بس نیست ہوئی دم میں ستم گاروں کی ہستی

چلنے لگی یکدست جو شمشیر دو دستی

معلوم ہوا لٹ گئی سب کفر کی بستی

 

زور ان کے ہر اک ضرب میں اللہ نے توڑے

ٹوٹیں جو صفیں، بت اسداللہ نے توڑے

 

کاٹے کبھی منہ سر کبھی گردن سے اڑائے

گہ دستِ قوی بازؤئے دشمن سے اڑائے

یوں روح کے طائر قفَسِ تن سے اڑائے

جس طرح پرندوں کو کوئی بَن سے اڑائے

 

جانبازوں کا یہ حال تھا شمشیر کے ڈر سے

جس طرح ہرن بھاگتے ہیں شیر کے ڈر سے

 

دم میں اثرِ قہرِ الٰہی نظر آیا

دوزخ کی طرف قافلہ راہی نظر آیا

جس صفت میں زرہ پوش سپاہی نظر آیا

چو رنگ وہیں صورتِ ماہی نظر آیا

 

بھاگی تھی ہوا خوف سے شمشیرِ دو دم کے

مچھلی بھی نہ لہراتی تھی دامن میں علم کے

 

چلنے میں عجب انداز تیغ نے نکالے

سر لے گئی گردن سے نئے ناز نکالے

طاقت تھی کہ ناوک قدر انداز نکالے

سوفار کا کیا منہ تھا جو آواز نکالے

 

بازو تو جفا کیشوں کے شانوں سے جدا تھے

تیروں سے کماں، تیر کمانوں سے جدا تھے

 

بجلی سی گری، جو صَفِ کفّار سے نکلی

آواز ‘بزن’ تیغ کی جھنکار سے نکلی

گہ ڈھال میں ڈوبی، کبھی تلوار سے نکلی

در آئی جو پیکاں میں تو سوفار سے نکلی

 

تھے بند خطا کاروں پہ در امن و اماں کے

چلّے بھی چھپے جاتے تھے گوشوں میں کماں کے

 

افلاک پہ چمکی کبھی، سر پر کبھی آئی

کوندی کبھی جوشن پہ، سپر پر کبھی آئی

گہ پھر گئی سینے پہ، جگر پر کبھی آئی

تڑپی کبھی پہلو پہ، کمر پر کبھی آئی

 

طے کر کے پھری کون سا قصّہ تھا فرس کا

باقی تھا جو کچھ کاٹ وہ حصّہ تھا فرس کا

 

بے پاؤں جدھر ہاتھ سے چلتی ہوئی آئی

ندّی اُدھر اِک خوں کی ابلتی ہوئی آئی

دم بھر میں وہ سو رنگ بدلتی ہوئی آئی

پی پی کے لہو، لعل اگلتی ہوئی آئی

 

ہیرا تھا بدن رنگ زمرّد سے ہرا تھا

جوہر نہ کہو، پیٹ جواہر سے بھرا تھا

 

زیبا تھا دمِ جنگ پری وش اسے کہنا

معشوق بنی سرخ لباس اس نے جو پہنا

اِس اوج پہ وہ سر کو جھکائے ہوئے رہنا

جوہر تھے کہ پہنے تھی دلہن پھولوں کا گہنا

 

سیبِ چمَنِ خُلد کی بُو باس تھی پھل میں

رہتی تھی وہ شبّیر سے دولھا کی بغل میں

 

سر پٹکے تو موج اِس کی روانی کو نہ پہنچے

قلزم کا بھی دھارا ہو تو پانی کو نہ پہنچے

بجلی کی تڑپ شعلہ فشانی کو نہ پہنچے

خنجر کی زباں تیز زبانی کو نہ پہنچے

 

دوزخ کے زبانوں سے بھی آنچ اس کی بُری تھی

برچھی تھی، کٹاری تھی، سَرَدہی تھی، چھُری تھی

 

موجود بھی ہر غول میں اور سب سے جدا بھی

دم خم بھی، لگاوٹ بھی، صفائی بھی، ادا بھی

اک گھاٹ پہ تھی آگ بھی، پانی بھی، ہوا بھی

امرت بھی، ہلاہل بھی، مسیحا بھی، قضا بھی

 

کیا صاحَبِ جوہر تھی، عجب ظرف تھا اس کا

موقع تھا جہاں جس کا وہیں صرف تھا اس کا

 

ہر ڈال کے پھولوں کو اڑاتا تھا پھل اس کا

تھا لشکرِ باغی میں ازل سے عمل اس کا

ڈر جاتی تھی منہ دیکھ کے ہر دم اجل اس کا

تھا قلعۂ چار آئینہ گویا محل اس کا

 

اس در سے گئی کھول کے وہ در نکل آئی

گہ صدر میں بیٹھی، کبھی باہر نکل آئی

 

تیروں پہ گئی برچھیوں والوں کی طرف سے

جا پہنچی کماں داروں پہ بھالوں کی طرف سے

پھر آئی سواروں کے رسالوں کی طرف سے

منہ تیغوں کی جانب کیا ڈھالوں کی طرف سے

 

بس ہو گیا دفتر نظری نام و نسب کا

لاکھوں تھے تو کیا، دیکھ لیا جائزہ سب کا

 

سر پر جو سپر کو کسی خود سر نے اٹھایا

نوکوں پہ اسے تیغِ دو پیکر نے اٹھایا

تلوار نے کیا دیو کو اژدر نے اٹھایا

لڑنے کا مزا خوب ستمگر نے اٹھایا

 

یوں پھینک دیا خاک پہ سر کاٹ کے تن سے

اگلے کوئی جس طرح نوالے کو دہن سے

 

ہر ہاتھ کے پرزے تھے تو ہر ڈھال کے ٹکڑے

پونہچے تھے کہ تھے قرعۂ رمّال کے ٹکڑے

کاٹے زرۂ جسمِ بد افعال کے ٹکڑے

تڑپی جو وہ مچھلی تو ہوئے جال کے ٹکڑے

 

مقتل کی جو سرحد سے چلی شام میں ٹھہری

کیا ماہیِ دریائے ظفر دام میں ٹھہری

 

جوشن پہ گئی کاٹ کے بازو نکل آئی

سینے سے بڑھی چیر کے پہلو نکل آئی

ہر زخم سے اس طرح وہ مہ رو نکل آئی

معلوم ہوا پھول سے خوشبو نکل آئی

 

گر پڑتی تھی بجلی جدھر آتی تھی لچک کر

کیا منہ تھا کہ مر جاتے تھے بسمل بھی پھڑک کر

 

پہنچی جو سپر تک تو کلائی کو نہ چھوڑا

ہر ہاتھ میں ثابت کسی گھائی کو نہ چھوڑا

شوخی کو شرارت کو لڑائی کو نہ چھوڑا

تیزی کو رُکھائی کو صفائی کو نہ چھوڑا

 

اعضائے بدن قطع ہوئے جاتے تھے سب کے

قینچی سی زباں چلتی تھی فقرے تھے غضب کے

 

چڑھتی ہے یہ ندّی تو اترتی ہے بمشکل

جب باڑھ پہ آتی ہے تو ٹھہرتی ہے بمشکل

اس گھاٹ سے کشتی بھی گزرتی ہے بمشکل

دھارے میں جو ڈوبے تو ابھرتی ہے بمشکل

 

پانی یہ نہیں بحر ہے اس تیغ کے بَر میں

چکّر میں وہ رہتا ہے جو آ جائے بھنور میں

 

طوفانِ غضب آبِ دمِ شمشیر سے اٹھا

وار اس کا تبر سے نہ کسی تیر سے اٹھا

ضربت کا نہ لنگر کسی تدبیر سے اٹھا

اک موجۂ خوں لشکرِ بے پیر سے اٹھا

 

اللہ رے تلاطم کہ زمیں ہل گئی رن کی

ضربہ جو پڑا ڈوب گئیں کشتیاں تن کی

 

وہ نعرۂ شیرانہ وہ حملے وہ تہوّر

تھّراتے تھے ساونت لرزتے تھے بہادر

جنّات کو حیرت تھی ملائک کو تحیّر

وہ سرعتِ شبدیز کہ تھکتا تھا تصوّر

 

مارا اُسے دو لاکھ میں جا کر جسے تاکا

سب ٹھاٹ تھے ضرغامِ الٰہی کی وغا کا

 

چار آئینہ والوں کو نہ تھا جنگ کا یارا

چو رنگ تھے سینے تو کلیجہ تھا دو پارا

کہتے تھے زرہ پوش نہیں جنگ کا یارا

بچ جائیں تو جانیں کہ ملی جان دو بارا

 

جوشن کو سنا تھا کہ حفاظت کا محل ہے

اس کی نہ خبر تھی کہ یہی دامِ اجل ہے

 

بد کیش لڑائی کا چلن بھول گئے تھے

ناوک فگنی تیر فگن بھول گئے تھے

سب حیلہ گری عہد شکن بھول گئے تھے

بے ہوشی میں ترکش کا دہن بھول گئے تھے

 

معلوم نہ تھا جسم میں جاں ہے کہ نہیں ہے

چلاتے تھے قبضے میں کماں ہے کہ نہیں ہے

 

ڈر ڈر کے قِدراست سنانوں نے جھکائے

دب دب کے سر عجز کمانوں نے جھکائے

ہٹ ہٹ کے عَلم رن میں جوانوں نے جھکائے

سر، خاک پہ گر گر کے نشانوں نے جھکائے

 

غُل تھا کہ پناہ اب ہمیں یا شاہِ زماں دو

پھیلائے تھے دامن کہ پھریرے کو اماں دو

 

شہ کہتے تھے، ہے باڑھ پہ دریا، نہ رکے گا

اس موج پہ آفت کا طمانچا نہ رکے گا

بے فتح و ظفر دلبرِ زہرا نہ رکے گا

تا غرق نہ فرعون ہو، موسیٰ نہ رکے گا

 

ہے بحرِ غضب، نام بھی قہرِ صمد اس کا

رکنے کا نہیں شام تلک جزر و مد اس کا

 

اس صف میں گئے بیچ میں اس غول کے نکلے

جو فوج چڑھی منہ پہ اسے رول کے نکلے

انبوہ سے یوں تیغِ دو سر تول کے نکلے

گویا درِ خیبر کو علی کھول کے نکلے

 

اک زلزلہ تھا نُہ فلک و ہفت طبق کو

ہر بار الٹ دیتے تھے لشکر کے ورق کو

 

بڑھتے تھے جو تولے ہوئے شمشیرِ دو دم کو

ہاتھوں کو ظفر چومتی تھی، فتح قدم کو

تھا خوف سے لرزہ عرب و روم و عجم کو

اک شیر نے روکا تھا چھ لاکھ اہلِ ستم کو

 

دنیا جو بچی روحِ محمد کا سبب تھا

شبّیر اگر رحم نہ کرتے تو غضب تھا

 

لڑتے تھے مگر غیظ سے رحمت تھی زیادہ

شفقت بھی نہ کم تھی جو شجاعت تھی زیادہ

نانا کی طرح خاطرِ امّت تھی زیادہ

بیٹوں سے غلاموں کی محبّت تھی زیادہ

 

تلوار نہ ماری جسے منہ موڑتے دیکھا

آنسو نکل آئے جسے دم توڑتے دیکھا

 

فرماتے تھے اعدا کو ترائی سے بھگا کر

کیوں چھوڑ دیا گھاٹ کو، روکو ہمیں آ کر

دعوت یونہی کرتے ہیں مسافر کو بلا کر؟

ہم چاہیں تو پانی بھی پئیں نہر میں جا کر

 

پر صبر کے دریا میں ہمیں پیاس نہیں ہے

اب زہر یہ پانی ہے کہ عبّاس نہیں ہے

 

بھولی نہیں اکبر کی ہمیں تشنہ دہانی

وہ چاند سا رخ، وہ قد و قامت، وہ جوانی

وہ سوکھے ہوئے ہونٹ، وہ اعجاز بیانی

دکھلا کے زباں مانگتے تھے نزع میں پانی

 

کس سے کہیں جو خونِ جگر ہم نے پیا ہے

بعد ایسے پسر کے بھی، کہیں باپ جیا ہے؟

 

یہ کہہ کے سکینہ کے بہشتی کو پکارے

الفت ہمیں لے آئی ہے پھر پاس تمھارے

لڑتے ہوئے آ پہنچے ہیں دریا کے کنارے

عبّاس، غش آتا ہے ہمیں پیاس کے مارے

 

اِن سوکھے ہوئے ہونٹوں سے ہونٹوں کو ملا دو

کچھ مشک میں پانی ہو تو بھائی کو پلا دو

 

لیٹے ہوئے ہو ریت میں کیوں منہ کو چھپائے

اٹھو کہ سکینہ کو یہاں ہم نہیں لائے

غافل ہو، برادر تمھیں کس طرح جگائے

ہے عصر کا وقت، اے اسداللہ کے جائے

 

خوش ہوں گا میں، آگے جو عَلم لے کے بڑھو گے

کیا بھائی کے پیچھے نہ نماز آج پڑھو گے؟

 

کہہ کر یہ سخن رونے لگا بھائی کو بھائی

تلوار سے مہلت ستم ایجادوں نے پائی

جس فوج نے رن چھوڑ دیا تھا وہ پھر آئی

دو روز کے پیاسے یہ، گھٹا شام کی چھائی

 

بارش ہوئی تیروں کی ولی ابنِ ولی پر

سب ٹوٹ پڑے ایک حسین ابنِ علی پر

 

کی شہ نے جو سینے پہ نظر پونچھ کے آنسو

سب چھاتی سے تھے پہلوؤں تک تیر سہ پہلو

ہر سمت سے تیغیں جو لگاتے تھے جفا جو

سالم نہ کلائی تھی، نہ شانہ تھا، نہ بازو

 

برگشتہ زمانہ تھا شہِ تشنہ گلُو سے

پھل برچھیوں کے سرخ تھے سیّد کے لہو سے

 

زخموں سے جو وہ دستِ مبارک ہوئے بیکار

ہرنے پہ دھری شاہ نے سپر، میان میں تلوار

بس کعبۂ ایماں کے قریب آ گئے کفّار

مظلوم کو تیغیں جو لگانے لگے اک بار

 

یوں شاہ کو گھیرے تھے پرے فوجِ ستم کے

جس طرح صف آرا تھے صنم گرد حرم کے

 

سجدے کی جگہ چھوڑی نہ تیروں نے جبیں پر

تقدیر نے لکھّے کئی نقش ایک نگیں پر

کثرت تھی جراحت کی رخِ قبلۂ دیں پر

ہر جا خطِ شمشیر تھی قرآنِ مبیں پر

 

تلواروں کے ٹکڑے تھے ہر اک جزوِ بدن پر

مجموعہ پریشان تھا، سی پار تن پر

 

حضرت کی یہ صورت تھی، فرس کا تھا یہ احوال

منہ تیغوں سے زخمی تھا بدن تیروں سے غربال

گھائل تھی جبیں، خون میں ڈوبی ہوئی تھی یال

گردن کا وہ کینڈا نہ وہ شوخی تھی نہ وہ چال

 

ہر سمت سے تیروں کا جو مینہ اس پہ پڑا تھا

پر کھولے ہوئے دھوپ میں طاؤس کھڑا تھا

 

جھک جاتے تھے ہرنے پہ جو غش میں شہِ ابرار

منہ پھیر کے آقا کی طرف تکتا تھا راہوار

چمکار کے فرماتے تھے شبیّرِ دل افگار

اب خاتم جنگ ہے اے اسپِ وفادار

 

اتریں گے بس اب تجھ سے چھٹا ساتھ ہمارا

نہ پاؤں ترے چلتے ہیں، نہ ہاتھ ہمارا

 

زخمی ہے، نہیں اب تری تکلیف گوارا

گرتے ہیں سنبھلنے کا ہمیں بھی نہیں یارا

کیا بات تری، خوب دیا ساتھ ہمارا

آ پہنچا ہے منزل پہ ید اللہ کا پیارا

 

تو جس میں پلا ہے وہ گھر اک دم میں لٹے گا

بچپن کا ہمارا ترا اب ساتھ چھٹے گا

 

گھیرے ہیں عدو، خیمے تلک جا نہیں سکتے

کھوئی ہے جو طاقت اسے اب پا نہیں سکتے

مشکل ہے سنبھلنا، تجھے دوڑا نہیں سکتے

پہلو ترے مجروح ہیں، ٹھکرا نہیں سکتے

 

حیواں کو بھی دکھ ہوتا ہے زخموں کے تعب کا

میں درد رسیدہ ہوں، مجھے درد ہے سب کا

 

کس طرح دکھاؤں کہ ترے زخم ہیں کاری

میں نے تو کسی دن تجھے قمچی نہیں ماری

گھوڑے نے سنی درد کی باتیں جو یہ ساری

دو ندّیاں اشکوں کی ہوئیں آنکھوں سے جاری

 

حیواں کو بھی رقّت ہوئی اس لطف و کرم پر

منہ رکھ دیا مڑ کر شہِ والا کے قدم پر

 

گردن کو ہلایا کہ مسیحا، نہ اُتریے

دم ہے ابھی مجھ میں مرے آقا، نہ اُتریے

تلواریں لیے گرد ہیں اعدا، نہ اُتریے

سب فوج چڑھی آتی ہے مولا، نہ اُتریے

 

اے وائے ستم صدر نشیں خاک نشیں ہو

حسرت ہے کہ مر جاؤں تو خالی مری زیں ہو

 

شہ نے کہا، تا چند مسافر سے مَحبّت

وہ تو نے کیا، ہوتا ہے جو حقِ رفاقت

بتلا تو سنبھلنے کی بھلا کون ہے صورت

نہ ہاتھ میں، نہ پاؤں میں نہ قلب میں طاقت

 

بہتر ہے کہ اتروں، نہیں تیورا کے گروں گا

پھٹ جائیں گے سب زخم جو غش کھا کے گروں گا

 

ہے عصر کا ہنگام، مناسب ہے اترنا

اس خاک پہ ہے شکر کا سجدہ ہمیں کرنا

گو مرحل صعب ہے دنیا سے گزرنا

سجدے میں کٹے سر کہ سعادت ہے یہ مرنا

 

طاعت میں خدا کی نہیں صرفہ تن و سر کا

ذی حق ہیں ہمیں اس کے کہ ورثہ ہے پدر کا

 

اترا یہ سخن کہہ کے وہ کونین کا والی

خاتم سے نگیں گر گیا، زیں ہو گیا خالی

اس دکھ میں نہ یاور تھے، نہ مولا کے موالی

خود ٹیک کے تلوار کو سنبھلے شہِ عالی

 

کپڑے تنِ پُر نور کے سب خوں میں بھرے تھے

اک ہاتھ کو راہوار کی گردن پہ دھرے تھے

 

منہ یال پہ رکھ رکھ کے یہ فرماتے تھے ہر بار

جا ڈیوڑھی پہ اے صاحبِ معراج کے راہوار

اب ذبح کریں گے ہمیں اک دم میں ستمگار

زینب سے یہ کہنا کہ سکینہ سے خبردار

 

رہنا وہیں جب تک مرا سر تن سے جدا ہو

لے جائیو بانو کو جدھر حکمِ خدا ہو

 

یہ کہہ کے جو سرکا اسداللہ کا جایا

اک تیر جبیں پر بنِ اشعث نے لگایا

فریاد نے زہرا کی دو عالم کو ہلایا

پیکانِ سہ پہلو عقبِ سر نکل آیا

 

تڑپے نہ، زہے صبر امامِ دو جہاں کا

سوفار نے بوسہ لیا سجدے کے نشاں کا

 

حضرت نے جبیں سے ابھی کھینچا نہ تھا وہ تیر

جو سر پہ لگی تیغِ بنِ مالکِ بے پیر

ابرو تک اتر کر جو اٹھی ظلم کی شمشیر

سر تھام کے بس بیٹھ گئے خاک پہ شبّیر

 

چلّائے ملک دیکھ کے خوں سبطِ نبی کا

تھا حال یہی مسجدِ کوفہ میں علی کا

 

بیٹھے جو سوئے قبلہ دو زانو شہِ بے پر

جھکتے تھے کبھی غش میں اٹھاتے تھے کبھی سر

تھے ذکرِ خدا میں کہ لگا تیر دہن پر

یاقوت بنے ڈوب کے خوں میں لبِ اطہر

 

بہہ آیا لہو تا بہ زنخدانِ مبارک

ٹھنڈے ہوئے دو گوہرِ دندانِ مبارک

 

نیزے کا بنِ وہب نے پہلو پہ کیا وار

کاندھے پہ چلی ساتھ زرارہ کی بھی تلوار

ناوک بنِ کامل کا کا کلیجے کے ہوا پار

بازو میں در آیا تبرِ خولیِ خونخوار

 

تلوار سے وقفہ نہ ملا چند نَفَس کا

دم رک گیا نیزہ جو لگا ابنِ انَس کا

 

تھرّا کے جھکے سجدۂ حق میں شہِ ابرار

شورِ دہلِ فتح ہوا فوج میں اک بار

خوش ہو کے پکارا پسرِ سعد جفا کار

اے خولی و شیث و بنِ ذی الجوشنِ جرّار

 

آخر ہے بس اب کام امامِ ازلی کا

سر کاٹ لو سب مل کے حسین ابنِ علی کا

 

لکھتا ہے یہ راوی کہ بپا ہو گیا محشر

بارہ ستم ایجاد بڑھے کھینچ کے خنجر

اک سیّدہ نکلی درِ خیمہ سے کھلے سر

برقع تھا، نہ مقنع تھا، نہ موزے تھے نہ چادر

 

چلّائے لعیں خوف سے ہاتھ آنکھوں پہ دھر کے

لو فاطمہ آتی ہے بچانے کو پسر کے

 

ہلتا تھا فلک، ہاتھوں سے جب پیٹتی تھی سر

بجلی کی طرح کوندتے تھے کانوں کے گوہر

فرماتی تھیں، فِضّہ جو اڑھا دیتی تھی مِعجَر

فریادی ہوں، فریادی کو زیبا نہیں چادر

 

سر ننگے یونہی جاؤں میں روضے پہ نبی کے

پردہ تو گیا ساتھ حسین ابنِ علی کے

 

اُس بھیڑ میں آ کر وہ ضعیفہ یہ پکاری

اے سبطِ نبی، ابنِ علی، عاشقِ باری

گھوڑا تو ہے کوتل، کدھر اتری ہے سواری

بھیّا، بہن آئی ہے زیارت کو تمھاری

 

مر جاؤں گی حضرت کو جو پانے کی نہیں میں

بے آپ کے دیکھے ہوئے جانے کی نہیں میں

 

اُس وقت شہِ دیں نے سنی زاریِ خواہر

جس وقت کہ تھا حلقِ مبارک تہِ خنجر

فرمایا اشارے سے کہ اے شمرِ ستم گر

زینب نکل آئی ہے، ٹھہر جا ابھی دم بھر

 

آخر تو سفر ہوتا ہے اس دارِ محن سے

دو باتیں تو کر لینے دے بھائی کو بہن سے

 

منہ پھیر لیا شمر نے خنجر کو ہٹا کے

دی شہ نے یہ زینب کو صدا اشک بہا کے

تڑپاتی ہو بھائی کو بہن بلوے میں آ کے

دیکھو گی کِسے، ہم تو ہیں پنجے میں قضا کے

 

اٹھ سکتے نہیں جسم پہ تلواریں پڑی ہیں

گھبراؤ نہ، امّاں مرے پہلو میں کھڑی ہیں

 

جاؤ صفِ ماتم پہ کرو گریہ و زاری

گھر سے نکل آئے نہ سکینہ مری پیاری

فردوس سے آ پہنچی ہے نانا کی سواری

بس اب نہ سنو گی بہن آواز ہماری

 

رونا ہے تو رو لیجو مرے لاشے پہ آ کے

ہٹ جاؤ کہ سر کٹتا ہے سجدے میں خدا کے

 

دوڑی یہ صدا سن کے ید اللہ کی جائی

چلّائی کہ دیدار تو میں دیکھ لوں بھائی

پر ہائے، بہن بھائی تلک آنے نہ پائی

یاں ہو گئی سیّد کے تن و سر میں جدائی

 

قاتل کو نہ گردن کو نہ شمشیر کو دیکھا

پہنچیں تو سناں پر سرِ شبّیر کو دیکھا

 

سر دیکھ کے بھائی کا وہ بے کس یہ پکاری

دکھ پائی بہن آپ کی مظلومی کے واری

خنجر سے یہ گردن کی رگیں کٹ گئیں ساری

تم مر گئے پوچھے گا خبر کون ہماری

 

آفت میں پھنسی آل رسولِ عَرَبی کی

اب جائیں کہاں بیٹیاں زہرا و علی کی

 

ہے ہے، پسرِ صاحبِ معراج حُسینا

پردیس میں بیووں کا لٹا راج حُسینا

گویا کہ علی قتل ہوئے آج حُسینا

ہے ہے، کفن و گور کے محتاج حُسینا

 

پرسا بھی ترا دینے کو آتا نہیں کوئی

لاشا بھی زمیں پر سے اٹھاتا نہیں کوئی

 

قربان بہن، اے مرے سرور، مرے سیّد

مذبوحِ قفا کشت خنجر، مرے سیّد

اے فاقہ کش و بیکس و بے پر، مرے سیّد

پنجے میں ہے قاتل کے ترا سر، مرے سیّد

 

دیتے ہو صدا کچھ، نہ بلاتے ہو بہن کو

کس یاس سے تکتے چلے جاتے ہو بہن کو

 

بھیّا، مرا کوئی نہیں، تم خوب ہو آگاہ

احمد ہیں، نہ زہرا، نہ حَسن ہیں نہ یداللہ

ڈھارس تھی بڑی آپ کی اے سیّدِ ذی جاہ

چھوڑا مجھے جنگل میں یہ کیا قہر کیا، آہ

 

چلتے ہوئے کچھ مجھ سے نہ فرما گئے بھائی

بھینا کو نجف تک بھی نہ پہنچا گئے بھائی

 

اے میرے شہید اے مرے ماں جائے برادر

کس سے ترا لاشہ بہن اٹھوائے برادر

کس طرح مرے دل کو قرار آئے برادر

پانی بھی نہ قاتل نے دیا ہائے برادر

 

انساں پہ ستم یہ کبھی انساں نہیں کرتا

حیواں کو بھی پیاسا کوئی بے جاں نہیں کرتا

 

خاموش انیس اب کہ ہے دل سینے میں بے چین

لکھّے نہیں جاتے جو زینب نے کیے بین

اب حق سے دعا مانگ کہ اے خالقِ کونین

حاسد ہیں بہت، دل کو عطا کر مرے تو چین

 

ناحق ہے عداوت انھیں اس ہیچ مداں سے

بے تیغ کٹے جاتے ہیں شمشیرِ زباں سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات