یا صاحب الجمال و یا سید البشر

یا صاحب الجمال و یا سید البشر
من وجہک المنیر و لقد نور القمر
لا یمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

ترجمہ

اے صاحب الجما ل اور اے انسانوں کے سردار
آپ کے رخِ انور سے چاند چمک اٹھا
آپ کی ثنا کا حق ادا کرنا ممکن ہی نہیں
قصہ مختصر یہ کہ خدا کے بعد آپ ہی بزرگ ہیں

 

مجھے ایک مدت سے یاد ہے اور مجھ جیسے ہزاروں کو یاد ہے اس کا
آخری مصرع تو ضرب المثل بن گیا ہے اور عام و خاص سبھی کے حافظے
میں ہے۔پورا قطعہ بھی مختلف کتابوں مقالوں اور خطبوں میں بارہا نقل
ہوا ہے۔بعض نے شاعر کا سُراع دیا ہے۔بعض نے نہیں دیا۔جن لوگوں نے
سُراع دیا ہے ان میں سے بعض نے اسے حافظؔ کے نام سے لکھا ہے
بعض نے سعدیؔ کے نام سے۔کسی نے جامیؔ سے منسوب کیا ہے
اور کسی نے قدسیؔ سے (انٹرنیٹ کے اس موجودہ دور میں بعض اہم
نعتیہ ویب گاہ پر یہ شاہ عبد الحق محدث دہلوی کے نام سے منسوب
ملتا ہے بریکٹ کا اضافہ دادا محسن بن نور نے ویب گاہ پر دیکھتے ہوئے کیا)۔
مجھے ان بزرگوں کے دوادین و کلیات میں یہ قطعاً نظر نہ آیا تو صاحب قطعہ
کی تلاش شروع ہوئی۔سیکڑوں سے استفسار کیا اور سیکڑوں کے مجموعہ ہائے
کلام دیکھے۔آخر آخر معلوم ہوا کہ یہ مشہور و معروف قطعہ کسی ایرانی شاعر
کا نہیں بلکہ حضرت شاہ ولی اللہ کے لائق فرزند شاہ عبد العزیز محدث دہلوی
کا ہے اور شاہ صاحب کے ملفوظات میں موجود ہے۔فرمان فتح پوری۱۹۷۴
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مدحـــــتِ ختمِ رسل اور زبانِ بســــــملؔ
ابرِ کرم ہے جن کی ذات، وجۂ سکوں ہے جن کا نام
نگاہِ ملتفت آقاؐ مرے مجھ پر سدا رکھنا
دل و جاں میں قرار آپؐ سے ہے
وہ خوش قسمت ہیں جن کی آپؐ کے در تک رسائی ہے
درِسرکارؐ کا جو بھی گدا ہو
چلو شہر نبیؐ کی سمت سب عشاق چلتے ہیں
ہے شہرہ آپؐ کا سارے جہاں میں
’’ گونج گونج اُٹھّے ہیں نغماتِ رضاؔ سے بوستاں ‘‘
’’پیا ہے جامِ محبت جو آپ نے نوریؔ ‘‘

اشتہارات