یرا فن روشن ہوا ان کے مقدس نام سے

 

ویرا فن روشن ہوا ان کے مقدس نام سے

فکر میں بالیدگی آئی ترے پیغام سے

 

جذبہءِ کامل ضروری ہے وفا کی راہ میں

منزلیں نزدیک خود آ جائیں گی اک گام سے

 

دیکھئے اعجاز ان کا پڑ گئی جن پر نظر

بن گئے وہ خاص جو لگتے تھے ہم کو عام سے

 

ہم کو قرآں نے نوازا دولتِ ایقان سے

رستگاری مل گئی ہے اس لیے اوہام سے

 

حسن انداز تکلم کے ہوئے ایسے اسیر

بچ نہ پائے آپ کے شیریں دہن کے دام سے

 

ساقی کوثر سدا ہو تیرے میخانے کی خیر

ایک جرعہ ہو عطا اپنے مبارک جام سے

 

مجھ کو آقا کی غلامی کے لیے بس چھوڑ دو

کام رکھو دوستو تم اپنے اپنے کام سے

 

ابنِ آدم جہل کی تاریکیوں میں غرق تھا

آگہی اس کو ملی ہے دعوت اسلام سے

 

جب قلم قیصر کا اٹھا مصطفیٰ کی شان میں

وہ بھی پہچانے گئے برسوں رہے گمنام سے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کہوں میں نعت نبی اور گنگناؤں اُسے
قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
باغِ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے
محبت ہو نہیں سکتی خُدا سے
نبیؐ اللہ کا مُجھ پر کرم ہے
مرے محبوبؐ، محبوبِ خُداؐ ہیں
دل و جاں میں سمایا نقشِ پا خیر الوریٰؐ کا ہے
غریبوں کا واحد سہارا محمد
وفورِ خیر تھا ، سو عرضِ حال بھُول گیا

اشتہارات